World
تگراے میں مظالم اور احتساب کی ناکامی کا بحران - نیکسورا نیوز
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق تگراے میں ماضی کے سنگین جرائم پر سزا سے استثنا کی پالیسی نے معصوم شہریوں کو نئے سرے سے شروع ہونے والی لڑائی میں شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس انسانی المیے پر خاموشی توڑتے ہوئے فوری اقدامات کرے۔
ایتھوپیا کے علاقے تگراے میں ایک بار پھر سے لڑائی کے شعلے بھڑک اٹھے ہیں جس کے نتیجے میں وہاں کے معصوم شہریوں کی زندگیاں شدید خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی ایک رپورٹ میں اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ماضی میں ہونے والے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم پر مجرموں کا احتساب نہ ہونے کی وجہ سے صورتحال مزید ابتر ہو چکی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ جب تک ماضی کے مظالم میں ملوث عناصر کو کٹہرے میں نہیں لایا جائے گا، خطے میں پائیدار امن کا قیام ناممکن رہے گا۔
رپورٹ کے مطابق، ماضی کے تنازع کے دوران ہونے والے مظالم پر مجرموں کو سزا دینے میں ناکامی نے ایک خطرناک روایت کو جنم دیا ہے، جس کے تحت اب نئی لڑائی کے دوران بھی عام شہریوں کو بلا خوف و خطر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ شہریوں کے پاس نہ تو کوئی دفاعی ذریعہ ہے اور نہ ہی انہیں بین الاقوامی سطح پر وہ تحفظ مل رہا ہے جس کے وہ مستحق ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ احتساب کے اس فقدان کی وجہ سے ظالموں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں اور وہ بلا جھجھک انسانیت سوز کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
موجودہ صورتحال نے تگراے کے عام باسیوں کے لیے روزمرہ کی زندگی کو جہنم بنا دیا ہے۔ خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی میں شدید رکاوٹیں حائل ہیں جبکہ ہجرت کرنے پر مجبور ہونے والے افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بین الاقوامی اداروں اور مبصرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اگر عالمی برادری نے اب بھی فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے تو یہ بحران مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں انسانی جانوں کا ضیاع ناقابلِ تلافی حد تک بڑھ جائے گا۔