World
عراق میں معاشی بحران: سرکاری تنخواہوں کے لیے فنڈز کی شدید کمی
عراقی حکومت کو سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی اور بنیادی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے ماہانہ تقریبا آٹھ اعشاریہ دو چار ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔ مالیاتی مسائل کی وجہ سے ملک میں معاشی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے اور ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ملک کٹھن دور سے گزر سکتا ہے۔
بغداد: عراقی حکومت کو درپیش مالیاتی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور تازہ ترین اطلاعات کے مطابق حکومت کو اپنے ملازمین کی تنخواہوں کی بروقت ادائیگی اور دیگر بنیادی سرکاری ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے ماہانہ تقریبا آٹھ اعشاریہ دو چار ارب امریکی ڈالر کی خطیر رقم کی ضرورت ہے۔ ذرائع کے مطابق اتنے بڑے پیمانے پر فنڈز کی فراہمی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے کیونکہ ملکی آمدنی کے ذرائع محدود ہوتے جا رہے ہیں اور عالمی سطح پر اقتصادی دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔ یہ صورتحال ملک میں ایک نئے اور طویل مالیاتی بحران کی غمازی کرتی ہے جس پر معاشی ماہرین نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال بہتر نہ ہوئی تو حکومت کے لیے اپنے روزمرہ کے امور اور تنخواہوں کی ادائیگی کو جاری رکھنا انتہائی دشوار ہو جائے گا۔
عراقی معیشت کا بڑا انحصار تیل کی برآمدات پر ہے، اور جب تک عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں استحکام نہیں آتا یا حکومت متبادل آمدنی کے ذرائع تلاش نہیں کرتی، اس قسم کے مالیاتی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ عام شہریوں اور ملازمین میں بھی اس بات کا خوف پایا جاتا ہے کہ اگر حکومت کو فنڈز کی کمی کا سامنا رہا تو اس کے براہ راست اثرات ان کے روزگار اور زندگی کے بنیادی اخراجات پر پڑیں گے۔ متعدد معاشی تجزیہ کاروں نے یہ سوال اٹھانا شروع کر دیا ہے کہ آیا عراق ایک بار پھر ان سالوں میں داخل ہو رہا ہے جنہیں مالیاتی تنگی کے 'دوبھر سال' کہا جا سکتا ہے، کیونکہ موجودہ ذخائر اور آمدنی ملکی اخراجات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔
حکومتی حلقوں کی جانب سے اس مالیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے، جن میں سرکاری اخراجات میں کٹوتی اور غیر ضروری منصوبوں کو عارضی طور پر معطل کرنا شامل ہے۔ تاہم، بنیادی ذمہ داریوں جیسے کہ لاکھوں سرکاری ملازمین کو تنخواہیں دینا اور پنشن کی ادائیگی کو روکنا ممکن نہیں ہے، جس کی وجہ سے حکومت شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور مبصرین نے بھی اس صورتحال پر نظر رکھی ہوئی ہے اور عراقی حکام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ فوری طور پر ساختی اصلاحات نافذ کریں تاکہ ملک کو کسی بڑے اقتصادی دھچکے سے بچایا جا سکے، ورنہ آنے والے مہینوں میں مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔