World
امریکہ ایران کشیدگی: تہران میں اندرونی سکیورٹی سخت اور گرفتاریاں تیز
امریکہ کے ساتھ جنگی حالات کے پیش نظر ایران نے اپنے اندرونی سکیورٹی حصار کو مزید مضبوط بنانا شروع کر دیا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کرنے کے ساتھ ساتھ عوامی اجتماعات پر بھی پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔
تہران: امریکہ کے ساتھ طویل عرصے سے جاری کشیدگی اور جنگی حالات کے تناظر میں ایرانی حکومت نے ملکی سطح پر سکیورٹی کے انتظامات کو انتہائی سخت کر دیا ہے۔ دارالحکومت سمیت ملک کے اہم شہروں میں سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودگی میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ اندرونی یا بیرونی خطرے سے نمٹا جا سکے۔ حکام کی جانب سے اٹھائے جانے والے ان اقدامات کا مقصد ملک کے اندر امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول میں رکھنا اور ممکنہ ہنگامی حالات کے لیے تیار رہنا ہے۔
دوسری جانب، مقامی ذرائع اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس کے مطابق اس سکیورٹی اضافے کے ساتھ ہی ملک بھر میں سزائے موت پر عملدرآمد، گرفتاریوں کے سلسلے اور عوامی اجتماعات کی جگہوں کی بندش میں بھی تیزی آ گئی ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنان نے ان سخت اقدامات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس سے پہلے سے کشیدہ داخلی فضا مزید خراب ہو سکتی ہے اور عام شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ واشنگتن اور تہران کے مابین جاری تنازعے کے اثرات اب براہ راست ایران کے اندرونی معاشرتی اور سیاسی منظر نامے پر پڑ رہے ہیں۔ جنگی خطرات کے بادل منڈلانے کی وجہ سے ایرانی انتظامیہ اندرونی سطح پر کسی بھی ممکنہ احتجاج یا بدامنی کو کچلنے کے لیے پہلے سے زیادہ سخت ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے، جس سے ملک میں خوف اور غیر یقینی کی فضا گہری ہوتی جا رہی ہے۔