LIVE
Loading Breaking News...

گوگل ڈیپ مائنڈ کا انتباہ: کیا مصنوعی ذہانت انسانی بقا کے لیے خطرہ ہے؟

News Image
گوگل ڈیپ مائنڈ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے مصنوعی ذہانت کے انسانیت کے لیے ممکنہ خطرات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس ٹیکنالوجی کو مناسب ضابطہ کار کے تحت کنٹرول نہ کیا گیا تو یہ نوعِ انسان کی بقا کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔
مصنوعی ذہانت (AI) کے حوالے سے دنیا بھر میں جاری بحث کے دوران اب ٹیکنالوجی کے بڑے اداروں کے اندر سے بھی شدید خدشات سامنے آنے لگے ہیں۔ گوگل ڈیپ مائنڈ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی اور اس کے لامحدود اختیارات انسانی بقا کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ بن سکتے ہیں۔ دنیا بھر کے ماہرین اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ آیا یہ جدید ترین ٹیکنالوجی مستقبل میں انسانوں کے کنٹرول سے باہر ہو سکتی ہے یا نہیں۔ گوگل ڈیپ مائنڈ کے اس بیان کے بعد عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کے ماہرین، محققین اور پالیسی سازوں کے درمیان ایک بار پھر ضابطہ کاری اور حفاظتی تدابیر کے حوالے سے بحث شروع ہو گئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت طب، معیشت اور سائنس کے شعبوں میں انقلاب برپا کر رہی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کے غلط استعمال یا خود مختار سسٹمز کے بے قابو ہونے کے خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ حالیہ برسوں میں جنریٹو اے آئی اور مشین لرننگ میں ہونے والی حیرت انگیز پیش رفت نے جہاں ایک طرف انسانی صلاحیتوں میں اضافہ کیا ہے، وہیں دوسری طرف اخلاقی اور سکیورٹی خدشات کو بھی جنم دیا ہے۔ دنیا بھر کے کئی سائنسدان اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اے آئی کی ترقی کے لیے سخت بین الاقوامی قوانین بنائے جائیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ٹیکنالوجی ہمیشہ انسانی فلاح و بہبود کے تابع رہے اور کسی بھی مرحلے پر نوعِ انسان کے لیے تباہ کن ثابت نہ ہو۔