LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کی گولہ بارود کی کمی کی تردید اور لیکرز کیخلاف کارروائی کا اعلان

News Image
نامزد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک میں گولہ بارود کی کمی کے دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انکشافات کرنے والے ذرائع کو سخت سزائیں دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مختلف امریکی میڈیا رپورٹس میں ایران کے ساتھ تنازع کے بعد میزائلوں اور دفاعی سازوسامان میں کمی کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان تمام رپورٹس کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جن میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران کے خلاف ممکنہ یا حالیہ تنازعات کے نتیجے میں امریکی فوج کے پاس طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل اور اہم گولہ بارود ختم ہو چکا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکی دفاعی ذخائر مکمل طور پر محفوظ اور مستحکم ہیں، اور ملک کو کسی بھی قسم کی جنگی سازوسامان کی کمی کا سامنا نہیں ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی شدید برہمی کا اظہار کیا کہ حساس نوعیت کی معلومات میڈیا میں کس طرح افشا ہو رہی ہیں۔ اس سے قبل برطانوی نشریاتی ادارے اور دیگر عالمی خبر رساں ایجنسیوں نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ نے اپنی طویل فاصلے کی درست نشانے پر مار کرنے والی میزائل فورس کا تقریباً تمام حصہ استعمال کر لیا ہے جبکہ اہم میزائل ڈیفنس سسٹمز کے انٹرسیپٹرز بھی تقریباً اسی فیصد تک ختم ہو چکے ہیں۔ ان رپورٹس کے بعد پینٹاگون میں سکیورٹی اور ہتھیاروں کے ذخائر پر ہنگامی اجلاس بھی طلب کیے گئے تھے تاکہ صورتحال کا جائزہ لیا جا सके اور ممکنہ کمی کو پورا کرنے کے لیے لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔ ان تمام خبروں اور رپورٹس کے ردعمل میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ان تمام افراد یا 'لیکرز' کو تلاش کرنے اور انہیں کٹہرے میں لانے کے لیے سخت ترین اقدامات کریں گے جو حکومتی اور دفاعی راز میڈیا تک پہنچاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی حساس معلومات کا باہر آنا ملکی سلامتی کے لیے خطرناک ہے اور اس کے ذمہ داروں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا بلکہ انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیجا جائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا یہ سخت موقف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اپنی انتظامیہ میں نظم و ضبط اور سکیورٹی کو لے کر انتہائی سنجیدہ ہیں۔ پینٹاگون کے حکام بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر امریکی عسکری ذخائر کی صورتحال انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید سیاسی اور عسکری بحث متوقع ہے۔