Pakistan
سندھ کے وزیر اعلیٰ کا بیان: نظام کا انہدام مسترد اور نئے صوبوں پر موقف
سندھ کے وزیر اعلیٰ نے صوبے کے نظام کے انہدام سے متعلق تمام تاثرات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کے نام پر کسی بھی قسم کے خون خرابے یا بدامنی کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔
سندھ کے وزیر اعلیٰ نے صوبے کے سیاسی اور انتظامی نظام کے انہدام سے متعلق پھیلائے جانے والے تاثر کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اپنی مدت پوری کرے گی اور موجودہ نظام مکمل طور پر برقرار رہے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبے کی آئینی حدود اور انتظامی ڈھانچے کو کمزور کرنے کی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور صوبائی ہم آہنگی کو خراب کرنے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سختی سے نمٹا جائے گا۔
نئے صوبوں کے قیام کے حالیہ مباحث اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سیاسی گرما گرمی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ نئے صوبوں کے نام پر کسی بھی قسم کی لسانی یا سیاسی کشیدگی اور خون خرابے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک اور بالخصوص صوبے کو اس وقت انتشار کی نہیں بلکہ استحکام اور ترقی کی ضرورت ہے، لہٰذا تمام فریقین کو چاہیے کہ وہ آئینی دائرے میں رہتے ہوئے بات چیت کریں اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنائیں۔
دوسری جانب وفاقی اور صوبائی سطح پر جاری سیاسی مباحث اور کابینہ کے اندرونی معاملات پر بھی مختلف حلقوں کی جانب سے تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ وفاقی وزیر محسن نقوی نے بھی اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ موجودہ سیاسی نظام پوری طرح فعال اور برقرار رہے گا جبکہ حکومت اپنی آئینی پانچ سالہ مدت کو کامیابی کے ساتھ مکمل کرے گی۔ حکومتی نمائندگان کا کہنا ہے کہ ملک کو درپیش معاشی اور انتظامی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تمام اکائیوں کا باہم جڑے رہنا اور ایک دوسرے کا ساتھ دینا ناگزیر ہے۔
سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ ملک میں نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کی تشکیل کا معاملہ ہمیشہ سے ہی انتہائی حساس رہا ہے جس پر تمام سیاسی جماعتوں کے مابین وسیع تر اتفاق رائے کی ضرورت ہوتی ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ اس قسم کے حساس موضوعات کو ذاتی یا گروہی مفادات کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ اس سے عوامی سطح پر غیر ضروری پولرائزیشن پیدا ہوتی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید سیاسی مکالمے متوقع ہیں تاکہ تمام غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جا سکے اور امن و امان کی فضا کو ہر قیمت پر برقرار رکھا جا سکے۔