LIVE
Loading Breaking News...

ایران کا آبنائے ہرمز معاہدے اور امریکی شرائط پر اہم بیان

News Image
ایران نے واضح کیا ہے کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز سے متعلق معاہدہ حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ اسٹریٹ کے دوبارہ کھلنے سے قبل امریکہ کو اپنے تمام وعدے پورے کرنا ہوں گے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق تہران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے امور پر ہونے والا معاہدہ اب اپنے حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس اہم پیش رفت کے باوجود، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ آبنائے کو باقاعدہ طور پر دوبارہ کھولنے سے پہلے واشنگٹن کو اپنے تمام تر دیرینہ وعدے اور مطالبات پورے کرنا ہوں گے۔ ایرانی حکومت کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی کے سائے منڈلا رہے ہیں اور بین الاقوامی تجارت کے لیے اس اہم آبی گزرگاہ کی بحالی پر عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔ دوسری جانب، خبروں میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایران کی پارلیمنٹ میں ایک ایسے بل کا جائزہ لیا جا رہا ہے جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں امریکی اور اسرائیلی بحری جہازوں کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کرنا ہے۔ اس مجوزہ قانون سازی کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر بھی اثرات مرتب ہوئے ہیں اور سرمایہ کاروں کی تشویش میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری یہ سفارتی و سیاسی رسہ کشی خطے کے امن اور توانائی کی سپلائی لائن کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اگرچہ عمان کی ثالثی سے ہونے والے اس معاہدے سے کشیدگی میں کچھ حد تک کمی کی امید کی جا رہی ہے، تاہم امریکی ردعمل اور تلخ سیاسی بیانات صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ امریکی حکام نے پہلے ہی کسی بھی ایسے اقدام کو مسترد کر دیا ہے جو آبنائے ہرمز میں امریکی یا اتحادی بحری جہازوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ بنے۔ عالمی طاقتیں اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ تیل کی ترسیل کو ممکنہ تعطل سے بچایا جا سکے، جبکہ تہران اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے کہ وہ خطے میں بیرونی مداخلت کو برداشت نہیں کرے گا۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا دونوں ممالک کسی قابلِ قبول سفارتی حل تک پہنچ پاتے ہیں یا خطے کی صورتحال مزید کشیدگی کی طرف جائے گی۔