LIVE
Loading Breaking News...

سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ، پانچ ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

News Image
معاشی ڈیٹا کے کمزور نتائج اور آبنائے ہرمز میں امن معاہدے کی امیدوں کے بعد سونے کی قیمتوں میں جون کے بعد سے سب سے بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سونے کی فی اونس قیمت نے پانچ ماہ کی بلند ترین سطح کو چھو لیا ہے جبکہ سرمایہ کاروں کی توجہ اب مستقبل کے رجحانات پر مرکوز ہے۔
عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں جون کے بعد سے اب تک کا سب سے بڑا ایک روزہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ امریکی روزگار کے کمزور اعداد و شمار اور آبنائے ہرمز میں ممکنہ امن معاہدے کی امیدیں ہیں۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق، سونے کے نرخوں میں اس اچانک تیزی نے خریداروں کو دوبارہ متحرک کر دیا ہے اور بیل مارکیٹ نے ایک بار پھر کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ حالیہ سیشن کے دوران سونے کی قیمتوں میں تقریباً پانچ فیصد تک کا نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جس سے فی اونس قیمت 4300 ڈالر کے قریب پہنچ گئی۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب سرمایہ کار عالمی معیشت اور جیو پولیٹیکل صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب، امریکی ڈالر کی پوزیشن اور نان فارم پے رول (NFP) کے اعداد و شمار سے پہلے مارکیٹ میں قدرے احتیاط بھی برتی جا رہی ہے۔ تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ بریک آؤٹ کو مارکیٹ میں ایک بڑے امتحان کا سامنا ہے، کیونکہ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ تیزی پائیدار ثابت ہوتی ہے یا محض ایک عارضی رجحان ہے۔ جنگ کے خاتمے کی امیدوں نے جہاں ایک طرف خطے میں استحکام کی کرن دکھائی ہے، وہیں دوسری طرف محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر سونے کی اہمیت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ سرمایہ کار اور تجارتی ادارے اب آنے والے دنوں کے معاشی اشاریوں کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ سونے کی قلیل مدتی اور طویل مدتی سمت کا درست تعین کیا جا سکے، جبکہ عام خریداروں اور تاجروں کے لیے یہ صورتحال کافی غیر یقینی لیکن منافع بخش ثابت ہو رہی ہے۔