World
روس یوکرین جنگ: حملوں کے تبادلے میں ایک بچے سمیت 10 افراد ہلاک
روس اور یوکرین کے درمیان جاری شدید فضائی اور زمینی حملوں کے نتیجے میں دونوں جانب کل دس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ہلاک شدگان میں چرنیہیو کے ایک سپر مارکیٹ میں ہونے والے حملے میں جاں بحق ہونے والا ایک بچہ بھی شامل ہے۔
ماسکو اور کیف کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک بار پھر خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے جب دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے علاقوں پر شدید حملوں کا تبادلہ کیا ہے۔ ان تازہ ترین کارروائیوں کے نتیجے میں دونوں اطراف مجموعی طور پر دس افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی ہے، جن میں ایک معصوم بچہ بھی شامل ہے۔ اس خونی تشدد نے خطے میں امن کی امیدوں کو مزید دھندلا دیا ہے اور عام شہریوں کی سلامتی کے حوالے سے شدید خدات کو جنم دیا ہے۔ یوکرین کے حکام کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق، روسی فضائی اور زمینی حملوں کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان حملوں کا سب سے زیادہ دردناک پہلو چرنیہیو کے علاقے میں ایک سپر مارکیٹ کو نشانہ بنانا تھا، جہاں ہونے والی بمباری کے نتیجے میں ایک بچہ بھی ہلاک ہو گیا۔ مصروف عوامی مقامات پر ہونے والے ان حملوں سے عام شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور امدادی ٹیموں کو جائے وقوعہ پر شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ دوسری جانب، روسی وزارت دفاع اور مقامی حکام کا کہنا ہے کہ یوکرین کی طرف سے کیے جانے والے جوابی حملوں میں بھی چار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ماسکو کا مؤقف ہے کہ یوکرین کی فورسز جان بوجھ کر سرحدی علاقوں اور عام آبادی کو نشانہ بنا رہی ہیں، جس سے جانی و مالی نقصان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے پر شہری آبادی پر حملے کرنے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں، جبکہ جنگ بندی کے حوالے سے تاحال کوئی مثبت پیش رفت سامنے نہیں آ سکی ہے۔ بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں فریقین سے فوری طور پر جنگ بند کرنے اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حملوں کا یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہا تو آنے والے دنوں میں انسانی بحران مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے، کیونکہ سردی کے موسم میں بنیادی ڈھانچے کی تباہی عام شہریوں کے لیے مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر رہی ہے۔