Politics
غیر ملکی شہریوں کے لیے سوشل ہاؤسنگ بند کرنے کا کنزرویٹو پلان
برطانیہ میں کنزرویٹو پارٹی نے اقتدار میں آنے پر غیر ملکی شہریوں کو سوشل ہاؤسنگ کی فراہمی پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کا دعویٰ ہے کہ اس منصوبے سے لگ بھگ دو لاکھ تیس ہزار نئے مکانات مقامی شہریوں کے لیے دستیاب ہو جائیں گے۔
برطانوی سیاست میں ایک اہم موڑ پر کنزرویٹو پارٹی نے ایک نیا اور متنازعہ منصوبہ پیش کیا ہے جس کے تحت غیر ملکی شہریوں کو سوشل ہاؤسنگ یعنی سرکاری رہائشی سہولیات کی فراہمی پر مکمل پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق اس پالیسی کا بنیادی مقصد ملک میں ہاؤسنگ کے شدید بحران کا سامنا کرنے والے مقامی شہریوں کو ریلیف فراہم کرنا اور رہائشی اسکیموں کے دباؤ کو کم کرنا ہے۔ کنزرویٹو رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے نفاذ سے تقریباً دو لاکھ تیس ہزار مکانات ایسے افراد کے لیے دستیاب ہو جائیں گے جو طویل عرصے سے سرکاری رہائش کے حصول کے منتظر ہیں۔ حالیہ برسوں میں برطانیہ بھر میں سستے گھروں کی قلت اور آبادی میں اضافے کی وجہ سے ہاؤسنگ کے امور پر شدید بحث جاری ہے۔ اس پالیسی کے تحت غیر ملکی شہریوں کے حقوق کو محدود کیا جائے گا تاکہ وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جا سکے اور ترجیحی بنیادوں پر مقامی خاندانوں کو آباد کیا جا سکے۔ اگرچہ اس اقدام کو روایتی اور دائیں بازو کے حامیوں کی طرف سے سراہا جا رہا ہے، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں اور سیاسی مخالفین کی جانب سے اس پر شدید تحفظات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے معاشرے میں تفریق بڑھ سکتی ہے اور تارکین وطن کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔ اس کے باوجود کنزرویٹو پارٹی کا مؤقف ہے کہ ملکی وسائل پر پہلا حق مقامی شہریوں کا ہے اور اس ہدف کے حصول کے لیے ایسے سخت فیصلے کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس پالیسی کے نفاذ اور اس کے ممکنہ سماجی و معاشی اثرات پر مزید بحث متوقع ہے، جو کہ ملکی سیاست میں مرکزی حیثیت اختیار کرتی جارہی ہے۔