Politics
امریکہ: ڈوج کے بچت کے دعوے غلط ثابت، نگران ادارے کی رپورٹ جاری
امریکہ کے سرکاری اخراجات میں کمی کے لیے کام کرنے والے ادارے کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایک سو دس ارب ڈالر کی بچت کے دعوے غلط یا ناکافی شواہد پر مبنی ہیں۔ اس جائزے کے بعد حکومتی مالیاتی حسابات اور دعووں پر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔
امریکہ میں حکومتی اخراجات کو کم کرنے اور مالیاتی نظم و ضبط لانے کے لیے سرگرم ادارے کی کارکردگی پر سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ ایک تازہ جائزے کے مطابق، اس ادارے کی جانب سے پیش کیے جانے والے ایک سو دس ارب ڈالر کی بچت کے دعوے حقائق کے برعکس یا پھر ناکافی شواہد پر مبنی ہیں۔ نگران حکام کی جانب سے کیے جانے والے اس جائزے میں واضح کیا گیا ہے کہ اعداد و شمار کی تیاری اور ان کی تشریح میں کئی طرح کی خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ سرکاری سطح پر مالیاتی بچت کے جو بلند بانگ دعوے کیے گئے تھے، زمینی حقائق ان کی تائید نہیں کرتے۔ تجزیہ کاروں اور نگران اداروں کا کہنا ہے کہ شفافیت کے فقدان اور غلط حساب کتاب کی وجہ سے عوام اور پالیسی سازوں کو گمراہ کیا گیا۔ اس صورتحال نے نہ صرف متعلقہ ادارے کی ساکھ کو متاثر کیا ہے بلکہ سرکاری اداروں میں احتساب کے عمل کو بھی کٹہرے میں لاکھڑا کیا ہے۔
ماہرینِ اقتصادیات کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ حکومتی اداروں میں اصلاحات اور بچت کے منصوبوں کے لیے درست ڈیٹا اور شفاف طریقہ کار کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔ اگر ابتدائی سطح پر ہی غلط اعداد و شمار پیش کیے جائیں گے تو اس سے طویل المدتی معاشی پالیسیوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکی انتظامیہ اس نگران رپورٹ کے بعد کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے اور ان غلطیوں کی ذمہ داری کس پر عائد کی جاتی ہے۔