World
موزمبیق سیلاب اور غذائی قلت: ایک نیا انسانی بحران
موزمبیق میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں زرعی فصلیں مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہیں اور رس رسد کے راستے منقطع ہو گئے ہیں۔ اس صورتحال نے لاکھوں خاندانوں کو شدید غذائی قلت اور کسمپرسی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔
افریقی ملک موزمبیق میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے بعد اب ایک اور سنگین بحران نے جنم لے لیا ہے، جہاں فصلیں تباہ ہونے اور رابطہ سڑکیں بند ہونے کے باعث غذائی قلت میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ ماہرین اور امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال کسی دوسرے بڑے انسانی المیے کی پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے، جس نے ملک کے غریب ترین طبقے کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔
حالیہ طوفانی بارشوں اور ان کے نتیجے میں آنے والے سیلاب نے ملک کے زرعی شعبے کو زمین بوس کر دیا ہے۔ کسانوں کی سال بھر کی محنت اور تیار فصلیں پانی میں ڈوب کر ضائع ہو چکی ہیں، جس کی وجہ سے مقامی سطح پر خوراک کی پیداوار صفر ہو کر رہ گئی ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف کسان خاندانوں کو بے سہارا چھوڑ دیا ہے بلکہ مارکیٹ میں بھی اجناس کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔
دوسری جانب، بنیادی ڈھگزے کی تباہی اور سیلابی پانی کے باعث رس رسد کے اہم راستے اور پل ٹوٹ چکے ہیں، جس کی وجہ سے متاثرہ علاقوں تک امدادی سامان، خوراک اور ادویات کی فراہمی میں شدید رکاوٹیں حائل ہیں۔ حکومتی اور بین الاقوامی امدادی ادارے اس بحران سے نمٹنے کے لیے سرگرم عمل ہیں، لیکن وسائل کی کمی اور زمینی مشکلات کی وجہ سے امدادی کارروائیاں سست روی کا شکار ہیں۔
اگر فوری طور پر موزمبیق کے ان متاثرہ علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پر خوراک کی رسد کو یقینی نہ بنایا گیا تو غذائی قلت سے جڑے امراض اور بھوک کی وجہ سے صورتحال مزید ابتر ہو سکتی ہے۔ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے موزمبیق کے سیلاب زدگان کے لیے فوری مالی اور امدادی پیکج کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اس انسانی المیے کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔