World
جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے، عوام کا حکومت کی پالیسی پر اظہارِ برہمی
جنوبی لبنان کے عوام نے اسرائیل کی تازہ ترین بمباری اور نقل مکانی کے احکامات پر اپنی حکومت کی پالیسی پر شدید سوالات اٹھائے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے لیے کوئی سرخ لکیر باقی نہیں رہی اور وہ مسلسل حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔
جنوبی لبنان میں ایک بار پھر اسرائیلی حملے شروع ہونے اور انخلا کے نئے احکامات جاری کیے جانے کے بعد مقامی آبادی میں شدید اضطراب اور غم و غصہ پھیل گیا ہے۔ یہاں کے مکینوں کا کہنا ہے کہ ان کی زندگی اور املاک کو مسلسل خطرات لاحق ہیں اور حکومت کی جانب سے اس صورتحال پر جو ردعمل سامنے آنا چاہیے تھا، وہ انتہائی ناکافی ہے۔ شہریوں کے مطابق اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ زمینی سطح پر کوئی بھی ریڈ لائن یا ضابطہ باقی نہیں رہا ہے جس کا احترام کیا جائے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں حملوں کا سلسلہ دوبارہ تیز ہونے کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ مکینوں کا کہنا ہے کہ انہیں بار بار اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور کیا جا رہا ہے جس سے ان کی معاشی اور سماجی زندگی تباہ ہو کر رہ گئی ہے۔ مقامی افراد نے اپنی حکومت کے طرزِ عمل پر گہرے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستی سطح پر اس جارحیت کے خلاف مؤثر اور فیصلہ کن سفارتی یا دفاعی حکمت عملی نظر نہیں آ رہی۔
اس صورتحال نے خطے میں کشیدگی کو ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے، جبکہ عام شہریوں کو سب سے زیادہ جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ جنوبی لبنان کے رہائشیوں کا مطالبہ ہے کہ بین الاقوامی برادری فوری طور پر مداخلت کرے اور اسرائیل کو ان حملوں اور جبری نقل مکانی کے احکامات سے روکے۔ دوسری جانب صورتحال بدستور کشیدہ بنی ہوئی ہے اور لوگ اپنے مستقبل کے حوالے سے شدید غیر یقینی کا شکار ہیں۔