World
ایران اور عمان کا آبنائے ہرمز پر سمجھوتہ، عالمی منڈی پر اثرات
ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے حوالے سے طے پانے والا سمجھوتہ آخری مراحل میں داخل ہو گیا ہے تاہم ایران کا کہنا ہے کہ اس سے آبنائے مکمل طور پر بحال نہیں ہوگی۔ اس ڈیل کا مقصد خطے میں سیکورٹی کے معاملات کو حل کرنا ہے جبکہ بین الاقوامی سطح پر اس کے اثرات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
تہران: ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے حوالے سے ہونے والا مجوزہ سمجھوتہ اب اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے، تاہم تہران نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اس ڈیل کے نتیجے میں یہ اہم بحری گزرگاہ مکمل طور پر نہیں کھولی جائے گی۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق، یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی اور جنگی صورتحال کے خاتمے کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے باوجود کہ جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے، ایران کی جانب سے یہ نیا مؤقف خطے کی بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ دوسری جانب اس پیشرفت کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں بھی ہلچل دیکھی گئی ہے جہاں حالیہ سیشن کے دوران تیل کے نرخوں میں تین ڈالر تک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے معاملات پر ایران کا یہ سخت اور دوٹوک مؤقف بین الاقوامی توانائی کی ترسیل کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ادھر رپورٹس کے مطابق ایران ایک ایسے بل کا بھی جائزہ لے رہا ہے جس کے تحت اس اہم گزرگاہ سے امریکی اور اسرائیلی بحری جہازوں کے گزرنے پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔ اس مجوزہ قانون سازی نے واشنگٹن میں بھی تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، جہاں امریکی حکام نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی پانیوں میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا پابندی کو مسترد کرتے ہیں۔ آبنائے ہرمز دنیا بھر کے تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم ترین اسٹریٹجک روٹ مانا جاتا ہے، جہاں سے گزرنے والے جہازوں اور وہاں کے سیکورٹی پروٹوکولز پر ہمیشہ سے عالمی طاقتوں کی نظریں لگی رہتی ہیں۔ ایران اور عمان کے مابین اس تازہ ترین معاہدے کی تفصیلات آنے والے دنوں میں مزید واضح ہونے کی توقع ہے، لیکن ابتدائی بیانات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس خطے میں تناؤ کے بادل ابھی مکمل طور پر چھٹے نہیں ہیں اور سمندری راستوں کی سلامتی کا معاملہ بدستور عالمی سیاست کے مرکز میں رہے گا۔