Business
نیپرا نے 25 کلو واٹ تک کے سولر سسٹمز کے لیے منظوری کا عمل ختم کر دیا
حکومت کی جانب سے پچیس کلو واٹ تک کے سولر سسٹمز کے لیے نیپرا کی منظوری کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد گھریلو اور چھوٹے صنعتی صارفین کے لیے قابلِ تجدید توانائی کے حصول کو سہل بنانا ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ملک میں چھوٹے پیمانے پر سولر سسٹمز کی تنصیب کے عمل کو نمایاں طور پر آسان بناتے ہوئے اہم ریگولیٹری تبدیلیاں متعارف کرائی ہیں۔ تازہ ترین فیصلوں کے مطابق حکومت اور متعلقہ حکام نے پچیس کلو واٹ تک کی صلاحیت کے حامل سولر سسٹمز کے لیے نیپرا کی روایتی منظوری کے عمل کو مکمل طور پر ختم یا چھوٹ دے دی ہے۔ اس فیصلے کا بنیادی مقصد عام صارفین، گھریلو یونٹس اور چھوٹے کاروباری طبقات کو درپیش بیوروکریٹک تاخیر اور طویل کاغذی کارروائی سے نجات دلانا ہے تاکہ ملک بھر میں صاف اور سستی توانائی کے فروغ کو تیز کیا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق اس نئی پالیسی کے نفاذ سے چھوٹے پروڈیوسرز اور صارفین کے لیے گرڈ کے ساتھ کنکشن حاصل کرنے کا عمل انتہائی سہل ہو جائے گا، جس سے ملک میں شمسی توانائی کے رجحان میں مزید اضافہ ہوگا۔ ماضی میں صارفین کو چھوٹے سسٹمز کے لیے بھی متعدد محکموں اور نیپرا سے منظوری کے لیے مہینوں انتظار کرنا پڑتا تھا، جس کی وجہ سے عوام گرڈ سے منسلک سولر سسٹمز کے حصول میں شدید مشکلات کا شکار تھے۔ اب اس ریگولیٹری رکاوٹ کے ختم ہونے سے نہ صرف تنصیب کی رفتار تیز ہوگی بلکہ صارفین کو بلا تعطل اور کم لاگت بجلی تک رسائی بھی حاصل ہو سکے گی۔ ماہرینِ معیشت نے اس حکومتی اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ملک میں توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی اور ساتھ ہی ساتھ ماحول دوست توانائی کے استعمال کو فروغ ملے گا۔ اس کے علاوہ، اس پالیسی سے سولر انڈسٹری اور متعلقہ کاروبار کو بھی ایک نیا تحرک ملے گا کیونکہ زیادہ سے زیادہ افراد پیچیدہ ضابطوں کیینج سے آزاد ہو کر سولر سسٹمز نصب کر سکیں گے۔