World
غزہ میں بچوں کی اموات، یونیسف کی ہولناک رپورٹ
اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ غزہ میں نام نہاد جنگ بندی کے بعد سے اب تک روزانہ کی بنیاد پر اوسطاً ایک بچہ جان کی بازی ہار رہا ہے۔ اس صورتحال نے غزہ کے تباہ حال بچوں اور ان کے مستقبل پر گہرے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسف) نے اپنی ایک انتہائی تشویشناک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں نام نہاد جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے لے کر اب تک روزانہ کی بنیاد پر اوسطاً ایک بچہ جاں بحق ہو رہا ہے۔ اس دلخراش صورتحال نے بین الاقوامی برادری کی خاموشی اور انسانی حقوق کے اداروں کی کارکردگی پر شدید سوالات اٹھا دیے ہیں، جبکہ غزہ کے معصوم بچوں کا بچپن مسلسل جاری بمباری اور تشدد کی نذر ہو رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق غزہ میں اس وقت ہزاروں بچے یتیم ہو چکے ہیں اور ان کے بچپن کے آثار تک مٹا دیے گئے ہیں۔ مسلسل جاری اسرائیلی تشدد اور فضائی حملوں کی وجہ سے بچوں کی اموات کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ یونیسف اور دیگر بین الاقوامی فلاحی تنظیموں نے بارہا خبردار کیا ہے کہ غزہ کے بچوں کو خوراک، ادویات اور طبی امداد کی شدید قلت کا سامنا ہے، جس سے آنے والے دنوں میں انسانی المیہ مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے مختلف کمشینز اور تحقیقاتی اداروں نے بھی فلسطین میں ہونے والے مظالم اور جنگی جرائم کی تحقیقات کا دائرہ کار بڑھا دیا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ غزہ میں جاری اس انسانیت سوز صورتحال کو فوری طور پر روکنے کے لیے عالمی طاقتوں کو عملی اقدامات کرنا ہوں گے بصورت دیگر آنے والی نسلیں مکمل طور پر تباہ ہو جائیں گی۔