LIVE
Loading Breaking News...

سوڈان کے غیر قانونی بچے: جنگ کے سائے میں پروان چڑھتی شناخت کا بحران

News Image
سوڈان میں جاری خانہ جنگی اور جنسی تشدد کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے پیدائشی سرٹیفکیٹ اور قانونی شناخت سے محروم ہیں۔ ان معصوم بچوں کو زندگی بھر کے لیے سنگین سماجی اور قانونی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
سوڈان میں طویل عرصے سے جاری تباہ کن خانہ جنگی نے جہاں ملک کے بنیادی ڈھانچے کو تہہ و بالا کر دیا ہے، وہیں وہاں کی معصوم نسل کے لیے ایک انتہائی خاموش اور بھیانک انسانی بحران بھی جنم لے رہا ہے۔ جنگ کے دوران ہونے والے جنسی تشدد اور مظالم کے نتیجے میں جنم لینے والے بچے آج کسی بھی سرکاری دستاویز اور قانونی شناخت کے بغیر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان بچوں کو پیدائشی سرٹیفکیٹ اور دیگر بنیادی اسناد حاصل کرنے میں شدید ترین رکاوٹوں کا سامنا ہے کیونکہ روایتی سماجی اصولوں اور کمزور ریاستی نظام کے باعث انہیں معاشرے میں قبولیت حاصل نہیں ہے۔ بنیادی قانونی شناخت اور پیدائشی سرٹیفکیٹ نہ ہونے کی وجہ سے ان بچوں کی مشکلات صرف پیدائش تک محدود نہیں رہتیں بلکہ یہ زندگی بھر کے لیے ان کا مقدر بن جاتی ہیں۔ شناخت کے بغیر یہ بچے نہ تو باضابطہ تعلیمی اداروں میں داخلہ لے سکتے ہیں اور نہ ہی مستقبل میں کسی بھی قسم کی سرکاری یا نجی نوکری یا صحت کی بنیادی سہولیات تک رسائی حاصل کر پاتے۔ اس کے علاوہ، سوڈان کے سخت سماجی ڈھانچے میں ان ماؤں اور ان کے بچوں کو شدید نوعیت کے معاشرتی بائیکاٹ اور امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے ان کی ذہنی اور جسمانی نشوونما بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں اور مقامی فلاحی ادارے اس سنگین مسئلے پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، لیکن ملک میں جاری جنگ کی وجہ سے امدادی کارروائیاں اور قانونی اصلاحات انتہائی محدود ہو چکی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سوڈان کے اس نادیدہ بحران کو فوری طور پر بین الاقوامی سطح پر اجاگر نہ کیا گیا اور ان بچوں کو قانونی شناخت دلانے کے لیے ہنگامی اقدامات نہ کیے گئے، تو ہزاروں بچے بغیر کسی قصور کے اندھیرے میں دھکیل دیے جائیں گے۔ حکومت اور عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ جنگ زدہ علاقوں میں ان ماؤں اور بچوں کے تحفظ اور حقوق کے لیے خصوصی پالیسیاں مرتب کریں۔