World
کانگو میں ایبولا کا پھیلاؤ، اموات کی تعداد 1405 ہو گئی
جمہوری جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جہاں صرف دس روز کے اندر ایک ہزار نئے کیسز سامنے آنے کے بعد متاثرین کی کل تعداد 3,200 تک پہنچ گئی ہے۔ اس خطرناک وباء کے باعث اب تک 1405 افراد اپنی جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ وائرس پانچ مختلف صوبوں میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔
جمہوری جمہوریہ کانگو سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ملک میں ایبولا وائرس کی وبا ایک بار پھر انتہائی خطرناک صورتحال اختیار کرتی جا رہی ہے۔ تازہ ترین طبی اعداد و شمار کے مطابق کانگو میں ایبولا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد بڑھ کر 3,200 سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ اس موذی مرض کے نتیجے میں مرنے والے افراد کی مجموعی تعداد 1405 تک پہنچ چکی ہے۔ طبی ماہرین اور عالمی ادارہ صحت نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
حیران کن اور تشویشناک بات یہ ہے کہ اس وبا کے کیسز میں محض دس ہی دنوں کے اندر ایک ہزار کا بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے، جو اس وائرس کی انتہائی تیز رفتار منتقلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ وبا اب تک ملک کے پانچ مختلف صوبوں میں اپنے پنجے گاڑ چکی ہے اور انتظامیہ کی تمام تر کوششوں کے باوجود اس کے پھیلاؤ کو مکمل طور پر روکا نہیں جا سکا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں طبی عملے کو شدید ترین دباؤ کا سامنا ہے کیونکہ مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے لیے ہسپتالوں میں جگہ کم پڑتی جا رہی ہے۔
عالمی سطح پر صحت کے نگراں اداروں نے کانگو کی حکومت کے ساتھ مل کر اس ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے امدادی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ متاثرہ صوبوں میں ویکسینیشن مہم کو وسیع کیا جا رہا ہے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے اور وائرس کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔ تاہم، سیکیورٹی کے مسائل اور بعض علاقوں میں طبی ٹیموں تک رسائی کی مشکلات اس بحران پر قابو پانے کی راہ میں بڑی رکاوٹیں بنی ہوئی ہیں۔
ماہرینِ امراضِ چشم اور وبائی امراض کے محققین کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر بین الاقوامی امداد اور وسائل فراہم نہ کیے گئے تو صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔ مقامی لوگوں میں اس بیماری کے حوالے سے آگاہی پھیلانے کے لیے بھی خصوصی مہمات شروع کی گئی ہیں تاکہ ابتدائی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر طبی امداد حاصل کی جا سکے اور وبا کے پھیلاؤ کی زنجیر کو توڑا جا سکے۔