World
بھارت کے آسام میں سیلاب سے دس لاکھ افراد متاثر
بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں مون سون کی طوفانی بارشوں کے بعد آنے والے شدید سیلاب سے دس لاکھ سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں۔ اس قدرتی آفت کی وجہ سے ہزاروں افراد بے گھر ہو کر امدادی کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔
بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں مون سون کی غیر معمولی اور طوفانی بارشوں کے نتیجے میں آنے والے ہولناک سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق، حالیہ سیلابی ریلوں اور بارشوں کی وجہ سے ریاست کے مختلف اضلاع میں دس لاکھ سے زائد افراد براہ راست متاثر ہوئے ہیں، جنہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں معمولات زندگی مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں اور زمینی رابطے بھی شدید متاثر ہوئے ہیں۔
ریاست بھر میں ہزاروں کی تعداد میں مکین اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں اور وہ حکومتی کیمپوں یا محفوظ مقامات پر پناہ لیے ہوئے ہیں۔ مقامی انتظامیہ اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے ادارے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم مسلسل بارشوں کے باعث امدادی کاموں میں بھی شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ سیلاب کے پانی نے زرعی زمینوں کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے، جس سے فصلیں تباہ ہو گئی ہیں اور کسانوں کو مالی طور پر زبردست دھچکا لگا ہے۔
ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری مون سون کا یہ سلسلہ مزید کچھ روز تک جاری رہ سکتا ہے، جس سے صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔ ریاستی حکومت اور وفاقی اداروں نے متاثرین کو خوراک، صاف پانی اور طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ تاہم، متاثرہ آبادی کی بحالی کے لیے طویل المدتی اور بڑے پیمانے پر کوششوں کی ضرورت ہوگی تاکہ اس قدرتی آفت سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ کیا جا سکے۔