Technology
میٹا پر 567 ملین ڈالر جرمانہ، نیو میکسیکو عدالت کا فیصلہ
نیو میکسیکو کی ایک عدالت نے نوجوانوں کو پہنچنے والے نقصانات پر معروف ٹیک کمپنی میٹا کو 567 ملین ڈالر جرمانے کی ادائیگی کا حکم دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس تاریخی مقدمے کے دوسرے مرحلے میں سامنے آیا ہے جس میں فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی کو اس سے قبل مارچ میں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
امریکہ کی ریاست نیو میکسیکو کی ایک عدالت نے سوشل میڈیا کی بڑی جائنٹ کمپنی میٹا (Meta) کو نوجوانوں کو نقصان پہنچانے کے مقدمے میں 567 ملین ڈالر جرمانے کی ادائیگی کا حکم صادر کیا ہے۔ یہ عدالتی فیصلہ ایک انتہائی اہم اور تاریخی مقدمے کے دوسرے مرحلے کے دوران سامنے آیا ہے، جس نے ٹیکنالوجی انڈسٹری میں ہلچل مچا دی ہے۔ قانونی حلقوں میں اس فیصلے کو کم عمر صارفین کے تحفظ اور سوشل میڈیا کمپنیوں کی ذمہ داری کے حوالے سے ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
اس مقدمے میں بنیادی طور پر مقبول ترین پلیٹ فارمز فیس بک اور انسٹاگرام کے طریقہ کار کو چیلنج کیا گیا تھا، جن کی ملکیت میٹا کے پاس ہے۔ استغاثہ کا مؤقف تھا کہ ان پلیٹ فارمز کے الگورتھمز اور فیچرز اس طرح ڈیزائن کیے گئے ہیں جو کم عمر نوجوانوں کی ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں اور انہیں مختلف نقصانات سے دوچار کرتے ہیں۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد میٹا کو اس بھاری جرمانے کی سزا سنائی ہے، جو کمپنی کے لیے ایک بڑا مالی اور قانونی دھکا ہے۔
واضح رہے کہ اس مقدمے میں میٹا کو اس سے قبل رواں سال مارچ کے مہینے میں بھی قانونی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، جب عدالت نے ابتدائی کارروائی کے دوران کمپنی کے خلاف فیصلے دیے تھے۔ اس تسلسل کے بعد قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ مستقبل میں دیگر سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے بھی ایک سخت مثال بنے گا، جو مبینہ طور پر نوجوانوں کے تحفظ کے قوانین کو نظر انداز کرتی ہیں۔
میٹا کے ترجمان کی طرف سے اس فیصلے پر فوری طور پر شدید ردعمل ظاہر کیا گیا ہے اور کمپنی کی جانب سے اس حکم کے خلاف اپیل دائر کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ تاہم، متاثرہ فریقین کے وکلاء اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اس عدالتی فیصلے کو تاریخی کامیابی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ڈیجیٹل دنیا میں بڑی ٹیک کمپنیوں کو احتساب کے کٹہرے میں لانے میں مدد ملے گی اور وہ اپنے پلیٹ فارمز پر نوجوانوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات کرنے پر مجبور ہوں گے۔