World
ارجنٹائن میں پولیس کی کارروائی، ہزاروں مظاہرین پر آنسو گیس فائر
ارجنٹائن کے دارالحکومت بیونس آئرس میں ہزاروں مظاہرین نے حکومتی پالیسیوں کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ اس موقع پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جنہیں روکنے کے لیے پولیس کو آنسو گیس کا استعمال کرنا پڑا۔
ارجنٹائن کے دارالحکومت بیونس آئرس میں کشیدہ صورتحال اس وقت پیدا ہو گئی جب ہزاروں کی تعداد میں شہری حکومتی پالیسیوں کے خلاف سراپا احتجاج بن گئے۔ اس احتجاج میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہاشی مشکلات اور معاشی اصلاحات کے نام پر عوام پر ڈالا جانے والا بوجھ فوری طور پر کم کیا جائے۔
صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی جب کچھ مظاہرین نے سرکاری املاک اور حفاظتی حصار کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور انتشار کو پھیلنے سے روکنے کے لیے پولیس نے فوری طور پر کارروائی کی۔ پولیس اہلکاروں نے مظاہرین کو تفرق کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے فائر کیے اور لاٹھی چارج کا بھی استعمال کیا، جس کے نتیجے میں علاقے میں بھگدڑ مچ گئی۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے الجزیرہ کی رپورٹر ٹریسا بو کے مطابق بیونس آئرس کی سڑکوں پر اس وقت شدید افراتفری کا عالم ہے کیونکہ سکیورٹی فورسز نے اہم سرکاری عمارتوں کے اطراف سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کر رکھے ہیں۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان آنکھ مچولی کا کھیل جاری ہے جبکہ زخمی ہونے والے بعض افراد کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
حکومتی ترجمان نے تاحال اس صورتحال پر مکمل تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے پولیس کی جانب سے طاقت کے مبینہ بے جا استعمال کی شدید مذمت کی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے فوری طور پر عوامی مطالبات پر توجہ نہ دی تو یہ احتجاج ملک کے دیگر شہروں تک بھی پھیل سکتا ہے، جس سے ملک میں سیاسی اور معاشی بحران مزید سنگین ہو جائے گا۔