LIVE
Loading Breaking News...

قالیباف کا ٹرمپ پر تنقید، امریکی سفارت کاری کو نمائش قرار دیا

News Image
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ واشنگٹن کی طرف سے دکھائی جانے والی سفارت کاری محض ایک دہرایا جانے والا ڈرامہ ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ (مجلس شورائے اسلامی) کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے جاری سفارتی کوششیں اور جنگ بندی کے دعوے دراصل محض ایک دکھاوا اور شو ڈپلومیسی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن بار بار وہی پرانا طریقہ کار دہرارہا ہے جسے کسی بھی صورت میں حقیقی اور مخلصانہ سفارت کاری نہیں کہا جا सकता۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ خطے میں جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے براہ راست بات چیت میں مصروف ہیں اور جنگ بہت جلد اپنے انجام کو پہنچ جائے گی۔ ٹرمپ کا یہ بھی ماننا تھا کہ موجودہ حالات میں ایران طویل عرصے تک اس دباؤ کو برداشت نہیں کر پائے گا، اس لیے تہران کو جلد یا بدیر مذاکرات کی میز پر آنا ہوگا۔ ایرانی قیادت نے امریکی صدر کے اس دعوے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تہران کسی بھی دباؤ یا دھمکی کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے گا۔ محمد باقر قالیباف کے مطابق، ایرانی قوم نے تمام تر مشکلات کے باوجود اپنی خودمختاری کا دفاع کیا ہے اور وہ موجودہ معاشی و سیاسی دباؤ کو بھی کامیابی سے عبور کر لیں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے کی جانے والی اشتعل انگیزی خطے کے امن کو مزید خطرے میں ڈال رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان لفظی جنگ میں ایک بار پھر تیزی آ گئی ہے جبکہ خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے خدشات بدستور برقرار ہیں۔ امریکہ اور ایران کے مابین بڑھتی ہوئی لفظی گولہ باری اس بات کا اشارہ ہے کہ سفارتی سطح پر ڈیڈ لاک تاحال برقرار ہے اور فوری طور پر کسی بڑے سمجھوتیکے آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔