World
فِٹنیس کلبز کے ذریعے انتہا پسندانہ بھرتیوں کا انکشاف
ماہرین نے انتباہ جاری کیا ہے کہ دورِ حاضر میں شدت پسند گروپ فِٹنیس اور دوستی کی آڑ میں نو جوانوں کو اپنے تنظیمی حلقوں میں شامل کر رہے ہیں۔ اس خطرناک رجحان کا مقصد خفیہ طور پر انتہا پسند نظریات کو پروان چڑھانا ہے۔
عالمی امور کے ماہرین اور سکیورٹی تجزیہ کاروں نے انتباہ کیا ہے کہ مغربی ممالک میں سرگرم انتہائی دائیں بازو کے انتہا پسند گروہ اب اپنے نظریات کو پھیلانے اور نئے نوجوانوں کو بھرتی کرنے کے لیے فِٹنیس کلبز اور جسمانی ورزش کے مراکز کا استعمال کر رہے ہیں۔ 'ایکٹو کلبز' کے نام سے قائم کیے جانے والے ان مراکز میں نوجوانوں کو صحت اور باہمی دوستی کا جھانسہ دے کر شدت پسندانہ نظریات کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔
ال جزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق، یہ گروہ روایتی سیاسی پلیٹ فارمز کے بجائے اب غیر رسمی اور پرکشش سرگرمیوں جیسے کہ مارشل آرٹس، ویٹ لفٹنگ اور آؤٹ ڈور کیمپنگ کو بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔ اس حکمت عملی کا مقصد نو جوان سفید فام مردوں کو جذباتی طور پر وابستہ کرنا اور پھر آہستہ آہستہ انہیں انتہا پسندی کی طرف راغب کرنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے نیٹ ورکس نے سکیورٹی ایجنسیوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے کیونکہ ان کی سرگرمیوں کو عام فِٹنیس کی سرگرمیوں سے الگ کرنا ابتدائی مراحل میں انتہائی مشکل ہوتا ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کرتے ہوئے ان فِٹنیس گروپس کی ترویج کی جاتی ہے، جہاں پرکشش ویڈیوز اور طاقتور جسمانی ساخت کے مظاہرے کے ذریعے نوجوانوں کو متاثر کیا جاتا ہے۔ جب نوجوان ان کلبز کا حصہ بن جاتے ہیں، تو انہیں بتدریج ایسے نظریات سے روشناس کرایا جاتا ہے جو نفرت اور تعصب پر مبنی ہوتے ہیں۔
سکیورٹی اداروں نے والدین اور تعلیمی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ اس نوعیت کے غیر رسمی کلبز اور ان کے نیٹ ورکس پر کڑی نظر رکھیں تاکہ نوجوانوں کو اس خاموش اور خطرناک انتہا پسندی سے محفوظ رکھا جا سکے حکومتی سطح پر بھی ان اداروں کی مانیٹرنگ کے لیے لائحہ عمل تیار کیا جا رہا ہے۔