LIVE
Loading Breaking News...

امریکی صدارتی حکم نامہ: پیدائشی شہریت کو محدود کرنے کی نئی کوشش

News Image
امریکی صدر نے ملک میں پیدائشی شہریت کے حق کو محدود کرنے کی غرض سے ایک نئے صدارتی حکم نامے پر دستخط کر دیے ہیں۔ یہ تازہ قدم سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد اٹھایا گیا ہے جس میں عدالت نے اس سے قبل اس آئینی حق کی تشریح تبدیل کرنے کی کوشش کو مسترد کر دیا تھا۔
واشنگٹن: امریکی صدر نے ملک میں پیدائشی شہریت کے روایتی حق کو محدود کرنے کی غرض سے ایک بار پھر نئے صدارتی احکامات پر دستخط کر دیے ہیں۔ یہ انتہائی اہم اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کچھ عرصہ قبل ہی امریکی سپریم کورٹ نے اس آئینی حق کی تشریح کو تبدیل کرنے کی صدارتی کوشش کے خلاف فیصلہ سنایا تھا۔ اس کے باوجود انتظامیہ اس متنازعہ موضوع پر اپنی پالیسی کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم دکھائی دیتی ہے۔ نئے جاری کردہ صدارتی احکامات کا بنیادی مقصد امریکہ میں پیدا ہونے والے ایسے بچوں کے لیے شہریت کے حصول کے طریقہ کار کو سخت بنانا ہے جن کے والدین غیر ملکی ہیں یا قانونی طور پر مستقل رہائش پذیر نہیں ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امریکی آئین کی چودھویں ترمیم کے بنیادی اصولوں کے خلاف ورزی کے مترادف ہے، جو کہ ملک میں پیدا ہونے والے ہر فرد کو شہریت کی ضمانت فراہم کرتی ہے۔ تاہم، انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس پالیسی سے ملک کے امیگریشن نظام میں بہتری آئے گی اور اس کے غلط استعمال کو روکا جا سکے گا۔ ماہرینِ قانون کا ماننا ہے کہ اس تازہ صدارتی حکم نامے کو بھی عدالتوں میں سخت قانونی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا، کیونکہ اس سے قبل اعلیٰ عدالتیں اس نوعیت کے احکامات کو مسترد کر چکی ہیں۔ دوسری جانب، اس فیصلے سے امریکہ میں تارکینِ وطن کے حقوق کے حامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے اور ملک بھر میں سیاسی گرما گرمی میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس قانونی جنگ کے امریکی سیاست اور عدلیہ پر دور رس اثرات مرتب ہونے کا قوی امکان ہے۔