LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کی کیوبا پر نئی پابندیاں، فوجی حکام اور کمپنیاں نشانہ

News Image
امریکہ نے کیوبا کی پانچ اہم اداروں اور آٹھ شخصیات پر سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ یہ اقدامات کیوبا کی جانب سے روس اور چین سے فوجی ساز و سامان کے حصول کو روکنے کے لیے اٹھائے گئے ہیں۔
امریکہ نے کیوبا کے خلاف اپنی پالیسی کو مزید سخت کرتے ہوئے جزیرہ نما ملک کی فوجی شخصیات اور اہم کاروباری اداروں کے خلاف سخت پابندیوں کا اعلان کر دیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ تازہ ترین اقدامات اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اٹھائے گئے ہیں کہ کیوبا کی حکومت اپنی عسکری صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے بیرونی ذرائع خصوصاً روس اور چین پر انحصار محدود کرے۔ امریکی سفارت کاری سے منسلک اس اہم پیش رفت میں کل آٹھ افراد اور پانچ اداروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ واشنگٹن کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ پانچوں ادارے اور آٹھوں افراد براہ راست یا بالواسطہ طور پر کیوبا کی فوج کو روس اور چین سے جدید فوجی ساز و سامان حاصل کرنے میں مدد فراہم کر رہے تھے۔ امریکہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کے دفاعی معاہدے خطے میں سکیورٹی کے توازن کو بگاڑ رہے ہیں اور ان ممالک کے ساتھ تجارتی و عسکری گٹھ جوڑ بین الاقوامی قوانین اور امریکی مفادات کے منافی ہے۔ ان پابندیوں کے نتیجے میں نامزد افراد اور کمپنیوں کے امریکہ میں موجود تمام اثاثے منجمد کیے جا سکتے ہیں اور امریکی شہریوں یا اداروں کو ان کے ساتھ کسی بھی قسم کے کاروباری لین دین سے سختی سے منع کر دیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں واشنگٹن اور ہوانا کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید تلخی کا باعث بن سکتی ہیں۔ کیوبا کی حکومت پہلے ہی طویل عرصے سے امریکی اقتصادی پابندیوں کا شکار ہے اور ان نئی پابندیوں سے اس کی معیشت پر مزید دباؤ بڑھنے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، امریکی انتظامیہ کا عزم ہے کہ وہ لاطینی امریکہ میں اپنے حریف ممالک روس اور چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے ہر ممکن سفارتی اور اقتصادی دباؤ کا استعمال جاری رکھے گی۔ امریکہ کا یہ قدم اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ واشنگٹن اپنے حریف ممالک کے ساتھ کیوبا کے عسکری تعلقات کو کس قدر سنجیدگی سے لے رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیوبا اس دباؤ کا کیا جواب دیتا ہے اور آیا روس اور چین اس صورتحال میں اپنے اتحادی کی حمایت کے لیے کوئی نیا لائحہ عمل اختیار کرتے ہیں یا نہیں۔ عالمی سطح پر اس فیصلے کے گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔