LIVE
Loading Breaking News...

کانگو میں ایبولا وباء کی خطرناک صورتحال، ڈبلیو ایچ او کا انتباہ

News Image
عالمی ادارہ صحت کے سربراہ کا کہنا ہے کہ جمہوری جمہوریہ کانگو میں ایبولا کی تیز ترین وباء خطرناک حد تک پھیل رہی ہے۔ اس خطرناک وباء کی وجہ سے اب تک مجموعی طور پر ایک ہزار سات سو اکاون افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے انتباہ جاری کیا ہے کہ جمہوری جمہوریہ کانگو میں ایبولا کی خطرناک وباء انتہائی غیر معمولی اور تیز رفتار سے پھیل رہی ہے۔ دنیا بھر میں یہ اب تک کی سب سے تیزی سے بڑھنے والی ایبولا کی لہر ہے جس نے طبی ماہرین کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں صورتحال روز بروز ابتر ہوتی جا رہی ہے اور وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فوری اور ہنگامی اقدامات کی شدید ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ ابتدائی اطلاعات اور تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، کانگو میں اس جان لیوا وباء کے نتیجے میں اب تک ایک ہزار سات سو اکاون (1751) افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ مرنے والوں کی اس بڑھتی ہوئی تعداد نے بین الاقوامی برادری اور فلاحی اداروں کو سخت تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں طبی عملے کو شدید ترین چیلنجز کا سامنا ہے کیونکہ مقامی سطح پر حفاظتی تدابیر اور علاج کی سہولیات انتہائی محدود ہیں۔ عالمی اداروں اور مقامی حکومت کی جانب سے وائرس کے پھیلاؤ کو قابو کرنے کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں، تاہم ناکافی وسائل اور سیکیورٹی کے مسائل کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر بروقت بڑے پیمانے پر وسائل فراہم نہ کیے گئے تو یہ وباء مزید تباہ کن شکل اختیار کر سکتی ہے، جس سے نہ صرف کانگو بلکہ خطے کے دیگر ممالک کو بھی شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔