LIVE
Loading Breaking News...

وفق حکومت ججز تقرری، صدر کی منظوری کے بغیر نوٹیفکیشن کا جائزہ

News Image
وفاقی حکومت نے عدالتی کمیشن کی سفارشات پر صدر مملکت کی جانب سے سمری کی منظوری میں تاخیر کے بعد آئین کے آرٹیکل اڑتالیس کے تحت ججز کی تقرری کا نوٹیفکیشن خود جاری کرنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ نے ججز کی تقرری میں تاخیر کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
وفاقی حکومت نے اس بات پر غور شروع کر دیا ہے کہ صدر مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے باضابطہ منظوری دیے بغیر ہی ہائی کورٹ کے ججز کی تقرری اور توثیق کے نوٹیفکیشن جاری کر دیے جائیں۔ ذرائع کے مطابق جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے اپنے اجلاسوں میں مختلف ہائی کورٹس کے لیے ججز کی تقرری اور توثیق کی سفارش کی تھی، تاہم صدر مملکت کی جانب سے سمری پر تاحال باضابطہ دستخط نہیں کیے گئے۔ حکومت اس صورتحال میں آئین کے آرٹیکل اڑتالیس ایک کے تحت نوٹیفکیشن جاری کرنے کے امکان کا جائزہ لے رہی ہے کیونکہ صدر کے پاس سمری پر فیصلہ کرنے کا مقررہ وقت گزر چکا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تاخیر کی وجہ سے کئی عملی مشکلات بھی پیدا ہو چکی ہیں۔ پشاور ہائیکورٹ کے چار اضافی ججز، جن کی خدمات کی توثیق جوڈیشل کمیشن نے کی تھی، مدت پوری ہونے اور نوٹیفکیشن نہ آنے کے باعث اپنے عہدوں پر برقرار نہیں رہ سکے۔ اسی طرح سندھ ہائیکورٹ کے ایک اضافی جج کی مدت میں توسیع کی سفارش کی گئی تھی لیکن وہ بھی مدت ختم ہونے پر منصب چھوڑ گئے۔ وزارت قانون و انصاف کے حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے کو آئینی حدود اور اعلیٰ عدالتوں کے اصولوں کے مطابق حل کیا جائے گا۔ دوسری جانب ایوان صدر کے ذرائع نے اس طریقہ کار کو نظر انداز کرنے پر خبردار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس اقدام سے سیاسی اور قانونی پیچیدگیاں جنم لے سکتی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ صدر اور وزیراعظم کے درمیان آئینی اختیارات کے حوالے سے پیدا ہونے والے ابہام کو یکطرفہ اقدام کے بجائے باہمی مشاورت سے حل کیا جانا چاہیے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ عدالتی تقرریوں کا معاملہ آئینی دفعات کے تحت چلتا ہے اور کسی بھی ڈیڈ لاک کو آئین کے مطابق ہی ختم کیا جائے گا۔ ادھر اسلام آباد ہائیکورٹ نے صدر مملکت کی طرف سے ججز کی تقرری اور توثیق کی سمری میں تاخیر کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ درخواست گزار کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ جوڈیشل کمیشن کی سفارشات کو پندرہ دن گزرنے کے باوجود منظور نہیں کیا گیا۔ دورانِ سماعت جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا کہ کیا صدر مملکت کے خلاف کوئی آئینی رٹ دائر کی جا سکتی ہے اور کیا عدالت صدر کو اس حوالے سے کوئی براہِ راست ہدایات جاری کر سکتی ہے۔ عدالت اس تمام قانونی نکتے کا جائزہ لینے کے بعد اپنا فیصلہ سنائے گی۔