LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان کا آبنائے ہرمز کا تنازعہ ختم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں میں کردار

News Image
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان خلیجی خطے اور آبنائے ہرمز کے تنازع کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے دیگر برادر ممالک کے ساتھ مل کر بھرپور کوششیں کر رہا ہے۔ عمان سمیت دیگر علاقائی شراکت دار اس سفارتی عمل کی مختلف جہتوں کی قیادت کر رہے ہیں تاکہ بحران کا مستقل سیاسی حل نکالا جا سکے۔
اسلام آباد: ترجمان دفترِ خارجہ نے جمعرات کو ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران واضح کیا ہے کہ پاکستان خلیجی خطے اور خاص طور پر آبنائے ہرمز کے تنازع کو پرامن انداز میں حل کرنے کے لیے دیگر برادر ممالک کے ساتھ مسلسل اور فعال انداز میں رابطے میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت علاقائی شراکت دار بالخصوص عمان سفارتی عمل کے مختلف پہلوؤں کی قیادت کر رہا ہے تاکہ خطے میں کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور سمندری تجارت کے راستوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔ اسلام آباد کا کردار دیگر برادر اسلامی ملکوں کے ساتھ مل کر اس بحران کو اسلام آباد مفاہمت نامے کے طے شدہ فریم ورک کے اندر لانے کی ایک مربوط کوشش کا حصہ ہے۔ ترجمان نے مزید وضاحت کی کہ موجودہ سفارتی مرحلے میں علاقائی فریقین کے درمیان ذمہ داریوں کی باقاعدہ تقسیم کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان متعلقہ تمام فریقین کے ساتھ رابطے میں ہے اور کچھ امور میں بعض ممالک جب کہ دیگر امور میں دوسرے ممالک قائدانہ کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عمان نے ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز میں نیویگیشن کے مستقبل کے انتظام کے لیے باضابطہ مذاکرات میں مرکزی کردار سنبھال لیا ہے۔ یہ عمل جون میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان طے پانے والے اسلام آباد مفاہمت نامے کے آرٹیکل فائیو کے تحت شروع کیا گیا تھا جس کا مقصد سمندری نقل و حرکت کو عارضی طور پر معمول پر لانا ہے۔ دوسری جانب ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ان مذاکرات کے دوران کافی حد تک پیش رفت ہوئی ہے جس میں مجوزہ بحری راستے کے جغرافیائی کواڈینیٹس پر اتفاق بھی شامل ہے۔ تاہم آپریشنل کنٹرول، سروس چارجز اور اس سے جڑے دیگر انتظامی امور پر بات چیت کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ دفترِ خارجہ کے ترجمان نے پاکستان کے کردار کو اسی وسیع تر سفارتی کوشش کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ قطر اور دیگر برادر ممالک کے اشتراک سے ایک مربوط سہولت کاری کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ طویل مدتی مفاہمت اور مستقل مکالمہ ہی اس بحران کے خاتمے کا واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان ان امن کوششوں کو اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر جاری رکھے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلام آباد کی بنیادی توجہ بحران کی انفرادی علامات مثلاً ناکہ بندی یا بحری ٹریفک پر حملوں کے بجائے ایک جامع سیاسی مفاہمت کے حصول پر مرکوز ہے۔ جب ایک بار فریقین کے درمیان معاہدہ طے پا جائے گا اور اس پر عمل درآمد شروع ہو جائے گا تو یہ تمام علامات خود بخود ختم ہو جائیں گی اور خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہوگی۔