World
امریکہ اور ایران میں کشیدگی، تہران کی جانب سے جوابی کارروائی معطل
امریکہ کی جانب سے دو ہفتوں سے جاری بمباری کی مہم کو عارضی طور پر روکنے کے بعد تہران نے بھی اپنے جوابی حملے معطل کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس پیشرفت سے خطے میں جاری کشیدگی میں وقتی کمی واقع ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک اہم موڑ اس وقت سامنے آیا جب امریکہ نے گزشتہ دو ہفتوں سے ایران کے خلاف جاری اپنی شدید بمباری کی مہم کو عارضی طور پر روکنے کا فیصلہ کیا۔ امریکی عسکری حکام کی جانب سے اس وقفے کا اعلان کیے جانے کے فوراً بعد تہران کی طرف سے بھی مثبت ردعمل سامنے آیا ہے اور ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے بھی فی الحال اپنے تمام جوابی حملے معطل کر دیے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس تازہ ترین پیشرفت کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ کے حساس خطے میں جنگ کے بادل کچھ چھٹنے لگے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان عارضی سیز فائر یا کشیدگی میں کمی کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔ اگرچہ اس عارضی وقفے کے مستقل بنیادوں پر امن معاہدے میں تبدیل ہونے کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی بات کہنا قبل از وقت ہو گا، تاہم عالمی رہنماؤں نے اس پیشرفت کا خیرمقدم کیا ہے۔ دونوں فریقین کی جانب سے حملوں کا سلسلہ رکنے کے بعد خطے کے عام شہریوں اور کاروباری حلقوں نے بھی سکھ کا سانس لیا ہے، کیونکہ گزشتہ دو ہفتوں سے جاری مسلسل بمباری کے باعث بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں بین الاقوامی سفارتی کوششیں اس بات کا تعین کریں گی کہ آیا اس عارضی وقفے کو طویل المدتی مذاکرات میں بدلا جا سکتا ہے یا نہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں بھی اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ فریقین کو مزید کشیدگی سے باز رکھا جا سکے اور بات چیت کے دروازے کھولے جا سکیں۔