LIVE
Loading Breaking News...

پی سی ہارپر کے قاتلوں کی قبل از وقت رہائی، سابق تفتیشی افسر کا ردعمل

News Image
پی سی اینڈریو ہارپر کے قتل کی تحقیقات کرنے والے سابق ڈی۔ایس۔پی نے مجرموں کی قبل از وقت رہائی کے امکانات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس کیس کے تمام پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے انصاف کے تقاضے پورے کرنے پر زور دیا ہے۔
برطانیہ میں پیش آنے والے ایک انتہائی دلخراش واقعے میں پی سی اینڈریو ہارپر کے قتل کی تحقیقات کرنے والے سابق ڈٹیکٹو سپرنٹنڈنٹ سچیورٹ بلیک نے پہلی بار اس کیس کے حوالے سے اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ اس بات پر شدید صدمے اور مایوسی کا شکار ہیں کہ اس بہادر پولیس افسر کے قتل میں ملوث مجرموں کو ان کی سزا پوری ہونے سے پہلے ہی رہا کیا جا سکتا ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مجرموں کی جیل سے رہائی کے حوالے سے بحث کا آغاز ہو چکا ہے اور قانونی حلقوں میں بھی اس پر چہ مگوئیاں جاری ہیں۔ یاد رہے کہ پی سی اینڈریو ہارپر کی ڈیوٹی کے دوران موت نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور اس واقعے کے خلاف عوامی سطح پر بھی شدید غم و غصہ پایا جاتا تھا۔ سابق تفتیشی افسر سچیورٹ بلیک، جنہوں نے اس پورے قتل کیس کی تفتیش کی قیادت کی تھی، کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے سنگین جرائم میں ملوث افراد کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرنا قانون کے نظام اور انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔ ان کے مطابق، مجرموں کو ان کے کیے کی پوری سزا ملنی چاہیے تاکہ معاشرے میں ایک واضح پیغام جا سکے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملہ کرنے والوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ سابق ڈی۔ایس۔پی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مقتول کے لواحقین اور پولیس فیڈریشن کی جانب سے بھی مسلسل یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ قانون میں موجود سقم کو دور کیا جائے تاکہ اس طرح کے سنگین جرائم کے مجرم آسانی سے معاشرے میں واپس نہ آ سکیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس بیان کے بعد ایک بار پھر ملک میں سزاؤں کے نفاذ اور مجرموں کی اصلاح یا قبل از وقت رہائی کے قوانین پر بحث تیز ہو گئی ہے۔ عوام اور مختلف تنظیمیں اس معاملے میں حکومت اور عدالتوں سے سخت موقف اپنانے کا مطالبہ کر رہی ہیں تاکہ انصاف کا بول بالا ہو سکے۔