LIVE
Loading Breaking News...

اینڈی اوگلز ریپبلکن پرائمری الیکشن میں شکست سے دوچار

News Image
مسلمانوں کے خلاف متنازع بیانات دینے والے امریکی کانگریس مین اینڈی اوگلز کو ریپبلکن پرائمری الیکشن میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ٹینیسی کے اس قانون ساز کو ڈونلڈ کی حمایت بھی شکست سے نہیں بچا سکی۔
امریکہ میں ریپبلکن پارٹی کے اندرونی انتخابات یعنی پرائمری میں ایک بڑے سیاسی اپ سیٹ کے تحت مسلمانوں کے خلاف متنازع خیالات رکھنے والے کانگریس مین اینڈی اوگلز کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ٹینیسی ریاست سے تعلق رکھنے والے اس قانون ساز نے حال ہی میں ایک متنازع بیان دیا تھا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ مسلمان امریکی معاشرے کا حصہ نہیں بن سکتے۔ ان کے اس بیان پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور مسلم کمیونٹی کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا تھا اور ان کی سیاسی ساکھ کو بھی بڑا نقصان پہنچا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس انتخابی معرکے میں اینڈی اوگلز کو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی توثیق اور آشیرواد بھی حاصل تھی، لیکن اس کے باوجود وہ ریپبلکن ووٹرز کا اعتماد بحال رکھنے میں ناکام رہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، اوگلز کے انتخابی حلقے میں ووٹرز نے ان کے انتہائی دائیں بازو کے نظریات اور متنازع بیانات کے بجائے زیادہ معتدل اور مقامی مسائل پر توجہ مرکوز کرنے والے امیدوار کو ترجیح دی۔ ٹرمپ کی حمایت کے باوجود یہ شکست اس بات کا اشارہ ہے کہ ووٹرز امیدواروں کی ذاتی کارکردگی اور متنازع بیانات کا بھی کڑی محاسبہ کرتے ہیں۔ اینڈی اوگلز کا کانگریس کے اندر اور باہر متنازع بیانات دینے کا طویل ریکارڈ رہا ہے، جس کی وجہ سے وہ اکثر ملکی میڈیا کی سرخیوں میں رہتے ہیں۔ ان کے اس زوال کو سیاسی حلقوں میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جہاں انتخابی سیاست میں نفرت انگیز بیانیے کو ووٹرز کی طرف سے مسترد کیا جا رہا ہے۔ اس پرائمری شکست کے بعد اب ان کا سیاسی مستقبل غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو چکا ہے جبکہ ان کے حریف امیدوار نے اس کامیابی کو عام عوام کی جیت قرار دیا ہے۔