AI
مصنوعی ذہانت کی مدد سے فطرت میں نہ پائے جانے والے وائرس تیار
امریکی محققین نے مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے سولہ ایسے وائرس تخلیق کیے ہیں جو عام طور پر فطرت میں نہیں پائے جاتے۔ اس سائنسی پیش رفت سے جہاں طبی میدان میں نئے امکانات روشن ہوئے ہیں وہیں اس کے غلط استعمال پر گہرے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
امریکہ سے تعلق رکھنے والے محققین نے مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے دنیا میں پہلی بار ایسے وائرس تخلیق کرنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے جو اس سے پہلے فطرت میں کہیں موجود نہیں تھے۔ اس سائنسی پیش رفت نے جہاں طبی اور سائنسی تحقیق کے شعبے میں ایک نیا باب رقم کیا ہے، وہیں اس ٹیکنالوجی کے ممکنہ غلط استعمال کے حوالے سے عالمی سطح پر تشویش کی لہر بھی دوڑ گئی ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق اس جدید تجربے کے دوران مجموعی طور پر 16 ایسے وائرس بنائے گئے ہیں جن کا کوئی سابقہ قدرتی وجود نہیں تھا۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہ قدم بائیو ٹیکنالوجی اور ادویات کی تیاری میں انقلابی تبدیلیاں لا سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے وائرسز کی ساخت اور ان کے افعال کو سمجھنے میں جو مدد ملے گی، اس سے مستقبل میں مہلک بیماریوں کے خلاف نئی ویکسینز اور ادویات کی تیاری میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم، اس کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی غلط ہاتھوں میں چلی گئی یا اس کا بے ضابطہ استعمال ہوا تو یہ انسانیت کے لیے ایک بڑا خطرہ بھی بن سکتی ہے۔
اس تحقیق کے بعد عالمی سطح پر ماہرین اور ضابطہ کار ادارے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے بائیو لاجیکل ریسرچ میں استعمال کے لیے سخت ضابطے اور ایس او پیز وضع کیے جائیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی صلاحیتیں لامحدود ہیں لیکن بائیو سیکیورٹی کے اصولوں کو نظر انداز کرنا دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ حکومتوں اور سائنسی اداروں کو اب اس بات کا سختی سے جائزہ لینا ہوگا کہ اس قسم کی تحقیقات کو کس طرح محفوظ دائرہ کار میں رکھا جائے۔