World
خامنہ ای کا بیان: امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات لبنان کی صورتحال سے مشروط
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے امن معاہدے کی شرط لبنان میں اسرائیلی حملوں کے خاتمے سے جوڑ دی ہے۔ انہوں نے لبنان پر اسرائیلی جارحیت کے فوری اور غیر مشروط خاتمے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔
تہران: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے واضح کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے امن معاہدے کا دار و مدار لبنان میں اسرائیلی حملوں کے مکمل اور غیر مشروط خاتمے پر ہے۔ ان کا یہ بیان خطے میں جاری کشیدگی اور سفارتی کوششوں کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے، جس نے بین الاقوامی سطح پر نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
ایرانی میڈیا اور سرکاری ذرائع کے مطابق، سپریم لیڈر نے اپنے ایک اہم بیان میں خطے کے موجودہ حالات کا گہرا جائزہ لیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ جب تک لبنان کے عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم اور حملے بند نہیں ہوتے، تب تک واشنگتن کے ساتھ کسی بھی قسم کے امن یا مفاہمتی عمل کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ انہوں نے لبنان کی خود مختاری اور سلامتی کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے جارحیت کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تہران کی جانب سے یہ مؤقف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں سفارتی سطح پر مختلف سطح پر رابطے جاری ہیں۔ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری تنازع کے اثرات پورے خطے پر پڑ رہے ہیں، اور ایران کی طرف سے اس تنازع کو امن مذاکرات کی بنیادی شرط بنانا خطے کی سیاست میں ایک بڑا موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔
بین الاقوامی برادری اور مبصرین اس بیان کے ممکنہ اثرات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ آیا اس سے جنگ بندی کی کوششوں کو تقویت ملے گی یا کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا۔ فی الحال، تہران کی طرف سے واضح کر دیا گیا ہے کہ لبنان کی صورتحال بہتر ہوئے بغیر امریکہ کے ساتھ تعلقات یا معاہدے کے حوالے سے کوئی بھی پیش رفت ممکن نہیں ہے۔