Business
پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا اعلان
حکومت نے جمعرات کو پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 3 روپے 19 پیسے اور 1 روپے 50 پیسے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق جمعہ سے ہو گیا ہے جبکہ حکومت بین الاقوامی مارکیٹ کے تناظر میں روزانہ کی بنیاد پر قیمتیں مقرر کرنے پر غور کر رہی ہے۔
حکومت نے ملک بھر کے صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں معمولی کمی کر دی ہے۔ جمعرات کو جاری ہونے والے سرکاری اعلامیے کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 3 روپے 19 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 1 روپے 50 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے۔ اس ردوبدل کے بعد اب پیٹرول کی نئی قیمت 329 روپے 82 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 382 روپے 36 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق جمعہ سے کر دیا گیا ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق پیٹرول پر عائد ٹیکسز اور ڈیوٹیز بدستور برقرار ہیں اور اس پر فی لیٹر 110 روپے جبکہ ڈیزل پر 96 روپے ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے بعد سے پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل ردوبدل دیکھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب پیٹرولیم وزیر علی پرویز ملک نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں جاری کشیدگی اور قیمتوں کے تیزی سے بدلتے ہوئے رجحان کے پیش نظر حکومت اب ایندھن کی قیمتیں ہفتہ وار یا پندرہ روزہ کے بجائے روزانہ کی بنیاد پر طے کرنے پر غور کر رہی ہے۔ تاہم حکومت کے اس ممکنہ فیصلے کو آل پاکستان ڈیلرز ایسوسی ایشن کی جانب سے مسترد کر دیا گیا ہے اور تاجر تنظیم نے احتجاجی لائحہ عمل تیار کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔ پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پاکستان کے اہم ترین ریونیو پیدا کرنے والے شعبوں میں شامل ہیں جن کی ماہانہ فروخت لاکھوں ٹن تک پہنچتی ہے۔ پیٹرول عام طور پر ذاتی سواریوں، موٹر سائیکلوں اور رکشوں میں استعمال ہوتا ہے جس کی قیمتوں میں ردوبدل براہ راست متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے بجٹ کو متاثر کرتا ہے۔ اسی طرح ڈیزل کی قیمتوں میں تبدیلی بھی بڑے پیمانے پر اثرات مرتب کرتی ہے کیونکہ یہ بھاری ٹرانزپورٹ، زرعی ٹیوب ویلوں اور پاور جنریٹرز میں استعمال ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کے معاملات اور جغرافیائی سیاسی صورتحال آنے والے دنوں میں مقامی مارکیٹ کے نرخوں کو طے کرنے میں اہم کردار ادا کرتی رہے گی۔