LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں پولیس اصلاحات اور چین کے طرز پر تفتیشی مرکز کا قیام

News Image
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے چین اور ترکی سے تربیت یافتہ پولیس افسران سے ملاقات میں ملک میں جدید پولیسنگ نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اسلام آباد میں چین کے طرز پر ایک نیا تفتیشی مرکز قائم کیا جائے گا جہاں حراست، تفتیش اور فوری سماعت کی سہولت ایک ہی چھت تلے میسر ہوگی۔
اسلام آباد: پاکستان کے نظام پولیس میں ایک بڑی تبدیلی کا آغاز کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بین الاقوامی طرز پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تشکیلِ نو کا اعلان کیا ہے۔ اس سلسلے میں دارالحکومت اسلام آباد میں چین کے طرز پر ایک جدید 'لا انفورسمنٹ انویسٹی گیشن سینٹر' قائم کیا جائے گا، جو ملک میں پولیسنگ کے نظام کو جدید خط استوار کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اس بات کا اعلان وزیر داخلہ نے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹس آف پولیس کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کیا، جو حال ہی میں چین اور ترکی سے خصوصی تربیتی کورس مکمل کر کے واپس لوٹے تھے۔ افسران نے اپنے غیر ملکی دوروں کے تجربات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہاں کی جدید ٹیکنالوجی، سرویلنس سسٹمز اور قانون نافذ کرنے کے طریقے انتہائی کارآمد ہیں۔ نئے قائم ہونے والے مرکز کی خصوصیت یہ ہوگی کہ اس میں حراست، تفتیش اور سمری ٹرائل یعنی فوری سماعت کی سہولیات کو ایک ہی چھت کے نیچے یکجا کیا جائے گا۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد چھوٹے مقدمات کے فیصلوں کو تیزی سے نمٹانا اور عدالتی اور انتظامی طریقہ کار میں ہونے والی غیر ضروری تاخیر کا خاتمہ کرنا ہے۔ وزیر داخلہ نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اپنے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر آزمائے گئے کامیاب ماڈلز سے بھرپور فائدہ اٹھائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس افسران کے لیے غیر ملکی تربیتی پروگراموں کو پیشہ ورانہ ترقی کا مستقل حصہ بنایا جائے گا تاکہ افسران جدید تقاضوں کے مطابق اپنی صلاحیتیں نکھار سکیں۔ اس جامع اصلاحاتی ایجنڈے کے تحت ملک کے محکمہ پولیس میں جدید سرویلنس سسٹمز اور جدید ترین ٹیکنالوجی کا نفاذ کیا جائے گا تاکہ جرائم کی روک تھام اور نگرانی کے دائرہ کار کو مزید وسیع بنایا جا سکے۔ عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کی خاطر وزارت داخلہ کے ایوی ایشن ونگ میں جدید ڈرونز بھی شامل کیے جا رہے ہیں جو کہ سکیورٹی اور نگرانی کے عمل میں معاون ثابت ہوں گے۔ اس کے علاوہ نیشنل پولیس اکیڈمی میں خصوصی تفتیشی کمرے قائم کیے جا رہے ہیں جہاں تفتیشی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے خصوصی تربیت دی جائے گی۔ وزیر داخلہ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ تفتیش کے عمل کو پولیس کی تربیت میں ایک باقاعدہ علمی مضمون کے طور پر شامل کیا جائے گا تاکہ تفتیش کے جدید اور سائنسی طریقے افسران کی تعلیم کا لازمی حصہ بن سکیں۔ ملاقات کے دوران پولیس افسران نے چین اور ترکی کے نظام پولیس کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور ڈیجیٹل ٹولز کے مؤثر استعمال پر روشنی ڈالی۔ نیشنل پولیس اکیڈمی کے کمانڈنٹ، ڈائریکٹر جنرل وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) اور دیگر اعلیٰ حکام بھی اس اہم ملاقات میں شریک تھے۔ ان تمام اصلاحات کا بنیادی ہدف پاکستان میں ایک ایسا مؤثر، جوابدہ اور ٹیکنالوجی پر مبنی نظامِ انصاف قائم کرنا ہے جو عام شہریوں کو بروقت انصاف کی فراہمی کو یقینی بنا سکے۔