Politics
حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات: تحریک انصاف کا عمران خان کی سہولیات تک شرط عائد
حکومت نے ایک بار پھر حزب اختلاف کی جماعت پی ٹی آئی کو مذاکرات کی دعوت دی ہے، تاہم پی ٹی آئی نے بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقاتوں اور طبی رسائی تک مذاکرات سے انکار کر دیا ہے۔ حکومتی وزراء کا کہنا ہے کہ گیند اب اپوزیشن کے کورٹ میں ہے جبکہ پی ٹی آئی نے سازگار ماحول کی فراہمی پر زور دیا ہے۔
اسلام آباد میں سیاسی درجہ حرارت اس وقت مزید بڑھ گیا جب حکومت کی جانب سے مرکزی اپوزیشن پارٹی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کی دعوت دی گئی۔ اس حوالے سے پارلیمنٹ ہاؤس میں ایک اہم ملاقات بھی ہوئی جس میں پی ٹی آئی کے چیف وہپ عامر ڈوگر نے قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق اور وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ حکومت نے ایک بار پھر پی ٹی آئی کو پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر ہی ان کی تجویز کردہ جگہ پر مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف پہلے بھی اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دے چکے ہیں لیکن اس بار بھی گیند پی ٹی آئی کے کورٹ میں ہے اور حکومت امید کرتی ہے کہ اپوزیشن اس مثبت پیشکش کا مناسب جواب دے گی۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے تصدیق کی کہ عامر ڈوگر کی اسپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات ہوئی ہے، لیکن انہوں نے حکومتی دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صورتحال اتنی سادہ نہیں ہے جتنی حکومت پیش کر رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس سات اگست کو ہونا تھا لیکن پی ٹی آئی کو باضابطہ طور پر کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔ جب عامر ڈوگر نے اسمبلی سیکرٹریٹ سے رابطہ کیا تو انہیں بتایا گیا کہ اجلاس سترہ اگست تک ملتوی کر دیا گیا ہے تاکہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان جاری کشیدگی اور الزامات کو پارلیمنٹ میں لانے سے گریز کیا جا سکے۔ شیخ وقاص اکرم نے مزید بتایا کہ اس دوران اسپیکر نے وزیر پارلیمانی امور کو بھی بلا لیا اور وزیر اعظم کی جانب سے دو بار مذاکرات کی پیشکش کا ذکر کیا۔ اس پر پی ٹی آئی نے واضح مؤقف اختیار کیا کہ جب تک پارٹی کے بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقاتوں پر عائد پابندیاں ختم نہیں کی جاتیں اور انہیں طبی سہولیات تک رسائی نہیں دی جاتی، اس وقت تک مذاکرات ممکن نہیں ہیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پی ٹی آئی صرف فوٹو سیشن کے لیے حکومت کے ساتھ میز پر نہیں بیٹھے گی جب تک کہ ایک سازگار ماحول فراہم نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے بتایا کہ اسپیکر نے پی ٹی آئی کو پارلیمانی قائمہ کمیٹیوں میں شامل ہونے کی بھی تجویز دی جس پر پارٹی کی طرف سے کہا گیا کہ اس حوالے سے حتمی فیصلہ بانی چیئرمین عمران خان ہی کریں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت پی ٹی آئی کی ان شرائط پر کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے اور مذاکرات کا سلسلہ آگے بڑھتا ہے یا نہیں۔