LIVE
Loading Breaking News...

آبنائے ہرمز میں سکیورٹی خدشات اور جہاز رانی کا بحران

News Image
آبنائے ہرمز میں تازہ دھماکوں اور سکیورٹی خدشات کے باعث خطے میں جہاز رانی کے مستقبل پر غیر یقینی چھائی ہوئی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی کوششوں اور معاہدوں کے باوجود دونوں جانب سے سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
آبنائے ہرمز میں حالیہ دنوں کے دوران پیش آنے والے سکیورٹی واقعات اور تازہ دھماکوں نے خطے میں تجارتی جہاز رانی کے حوالے سے پائی جانے والی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ اگرچہ ایران اور اومان کے درمیان سمندری راستوں کی بحالی کے حوالے سے ابتدائی فہم و فراست پائی جاتی ہے، لیکن زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ بین الاقوامی بحری جہازوں کو اب بھی شدید خطرات کا سامنا ہے۔ برطانوی بحری سکیورٹی ایجنسی کے مطابق، ایک تیل بردار بحری جہاز کے کپتان نے آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے دو دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے۔ خوش قسمتی سے اس واقعے میں عملہ اور جہاز محفوظ رہے اور کسی قسم کے ماحولیاتی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم اس نوعیت کے واقعات نے جہاز رانی کے بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ دوسری جانب، امریکی سینٹ کام کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے خلاف اپنی بحری ناکہ بندی پر سختی سے عمل پیرا ہے۔ اس ناکہ بندی کے نتیجے میں درجنوں تجارتی جہازوں کا رخ موڑا گیا ہے جبکہ کچھ کو روکا بھی گیا ہے۔ اس کشیدہ صورتحال کے باوجود، شپ ٹریکنگ کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اگست کے مہینے میں مشرق وسطیٰ سے امریکی خام تیل کی درآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور یہ یومیہ چھ لاکھ بیرل سے تجاوز کرنے کا امکان ہے۔ یہ اضافہ اس قلیل مدتی نرمی کی وجہ سے ممکن ہوا جو آبنائے ہرمز کے کچھ راستے کھلنے اور سعودی تیل کی نہر سویز کے ذریعے ترسیل کی وجہ سے سامنے آئی تھی۔ سعودی عرب نے ایرانی حملوں سے بچنے کے لیے اپنی تیل کی پیداوار کا رخ متبادل پائپ لائنز کی طرف موڑ دیا ہے۔ سفارتی محاذ پر بھی امریکہ اور ایران کے درمیان الفاظ کی جنگ جاری ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ بات چیت کی سست رفتار پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران میں اندرونی اختلافات کی وجہ سے مذاکرات کا یہ عمل طویل اور پیچیدہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی قیادت کے ساتھ معاملات طے کرنا انتہائی مشکل ہے۔ ادھر، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ مذاکرات کے دوران غنڈہ گردی اور جھوٹی خبروں کو بطور ہتھکنڈہ استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے امریکی رویے کو 'تھئیٹر ڈپلومیسی' قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ تہران کو مزید ڈراموں کی نہیں بلکہ حقیقی اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔