LIVE
Loading Breaking News...

آٹزم کے شکار بچوں کی پرورش اور قانونی مشکلات کی کہانی

News Image
آٹزم اسپیکٹروم ڈس آرڈر کا شکار بچی کی اکیلی والدہ نے معاشرتی رویوں اور عدالتی نظام میں درپیش سنگین مشکلات کو بے نقاب کیا ہے۔ تھراپی اور اسپیشل ایجوکیشن کے بھاری اخراجات پورا کرنے کے لیے قانونی جنگ لڑنے کے باوجود خاندان کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے۔
ایک خاتون صحافی اور آٹزم اسپیکٹروم ڈس آرڈر کا شکار بچی کی اکیلی ماں نے اپنی بیٹی الیا کی پرورش کے دوران پیش آنے والی مشکلات کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ سال 2023 میں جب الیا کی عمر ساڑھے تین سال تھی، تو ماہرین نے اسے اعتدال سے شدید آٹزم کے زمرے میں رکھا۔ اس کی نشوونما تقریباً اٹھارہ ماہ کے بچے جیسی تھی، وہ معنی خیز الفاظ ادا کرنے سے قاصر تھی اور اپنی ضروریات کے لیے اشاروں کا استعمال کرتی تھی۔ اس کی ڈاکٹروں نے اپلائیڈ بیہیویئر اینالسز، سپیچ تھراپی اور آکیوپیشنل تھراپی کی سفارش کی تھی جن کے ماہانہ اخراجات لاکھوں روپے تک پہنچ جاتے ہیں۔ ان طبی اور تعلیمی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے والدہ کو طویل قانونی جنگ لڑنی پڑی، کیونکہ نچلی عدالتیں عام بچوں کے اخراجات کا تخمینہ لگانے سے تو واقف ہیں لیکن نیورو ڈائیورجنٹ بچوں کے حقیقی اخراجات سے ناآشنا ہیں۔ تھراپی اور اسپیشل ایجوکیشن کے مثبت اثرات الیا کی تعلیمی زندگی میں واضح طور پر نظر آئے جب اسے شیڈو ٹیچر کے ساتھ ایک مرکزی اسکول کے نرسری درجے میں داخلہ دلایا گیا۔ ایک سال کے دوران الیا نے نمایاں ترقی کی اور وہ ہم جماعتوں کے ساتھ پڑھائی اور اسکول کی سرگرمیوں میں حصہ لینے لگی۔ اسکول کی فیس، شیڈو ٹیچر کی تنخواہ اور دیگر اخراجات نے جلد ہی تمام جمع پੂੰی نچوڑ لی اور دسمبر 2025 تک والدہ اس بوجھ کو اٹھانے سے قاصر ہو گئیں۔ فنڈز کی کمی اور بروقت مالی معاونت نہ ملنے کی وجہ سے تھراپی کا سلسلہ اکثر رک جاتا ہے جو کہ بچوں کی بحالی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ عدالتی کارروائی کے دوران جج کی طرف سے مقرر کردہ ماہانہ کفالت کی رقم بچوں کی حقیقی طبی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہوئی۔ پاکستانی معاشرے اور عدالتی نظام کو ابھی آٹزم کے شکار بچوں کی ضروریات کو سمجھنے کے لیے ایک طویل سفر طے کرنا ہے۔ یہ بچے کسی دوسرے سیارے سے نہیں آتے بلکہ ہمارے گھروں کا حصہ ہیں، جنہیں صرف دنیا کو سمجھنے کا ایک الگ انداز حاصل ہے۔ معاشرے میں پائی جانے والی عدم برداشت اور غفلت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ معذوری کی بنیاد پر بچوں کی ضروریات کا اندازہ لگانے کے لیے واضح عدالتی رہنما اصول بنائے جائیں تاکہ ہر آٹزم کا شکار بچہ اپنی مکمل صلاحیتوں کے ساتھ زندگی گزار سکے۔