LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں صحت کے نظام کی تباہی اور ایچ آئی وی کا بحران

News Image
پاکستان کا موجودہ صحت کا نظام شدید زوال اور بدانتظامی کا شکار ہو چکا ہے، جہاں غیر محفوظ سرنجوں کے استعمال سے بچوں میں ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس کے کیسز خطرناک حد تک بڑھ رہے ہیں۔ ملک میں ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے جبکہ حکومت کو اس بحران پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔
پاکستان کے اندرونی امور کے وزیر کے حالیہ بیان کے مطابق ملک کا نظام مفلوج ہو چکا ہے اور اسے مکمل طور پر از سر نو ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کا شعبہ صحت اس نظام کی ناکامی کی ایک واضح اور دردناک تصویر پیش کر رہا ہے، جہاں ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس سی کا پھیلاؤ اس زوال کا سب سے بڑا مظہر ہے۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق ملک بھر میں غیر محفوظ سرنجوں کے دوبارہ استعمال اور بغیر اسکریننگ کے خون کی منتقلی کے باعث 7,500 سے زائد معصوم بچے ایچ آئی وی کا شکار ہو چکے ہیں، جبکہ اس میں پنجاب کے وہ اعداد و شمار شامل نہیں ہیں جو تاحال وفاقی حکومت کے ساتھ شیئر نہیں کیے گئے۔ ایچ آئی وی کی وجہ سے اموات کی مجموعی تعداد 25 ہزار بتائی جاتی ہے، جبکہ ہیپاٹائٹس سی کے حوالے سے پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ متاثرہ آبادی رکھتا ہے جہاں تقریباً ایک کروڑ افراد اس بیماری میں مبتلا ہیں۔ ملک میں ہیپاٹائٹس سی کا تناسب 7.5 فیصد ہے جو دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے اور عالمی بوجھ کا بیس فیصد حصہ اکیلے پاکستان میں پایا جاتا ہے۔ اس سنگین بحران کے اسباب کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ عام اسپتالوں اور کلینکس میں معمولی بیماریوں کے علاج کے لیے آنے والے بچوں کو استعمال شدہ سرنجیں اور کینولا لگائے جا رہے ہیں، جس سے یہ جان لیوا بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ ایک عام کہانی یہ ہے کہ جب کوئی ماں اپنے بچے کو نزلہ، زکام یا اسہال کے علاج کے لیے لے جاتی ہے تو غلط اور غیرمحفوظ طریقوں کی وجہ سے بچہ ایچ آئی وی کا شکار ہو جاتا ہے۔ ابتدا میں اس کی تشخیص نہیں ہو پاتی کیونکہ بیشتر مقامات پر اس کا شک بھی نہیں کیا جاتا، اور جب تک مرض ظاہر ہوتا ہے تب تک بچہ شدید نوعیت کی بیماری میں مبتلا ہو چکا ہوتا ہے۔ سندھ اور دیگر صوبوں میں علاج کروانے والے بچوں کے لیے لازمی وائرل لوڈ ٹیسٹنگ کا نظام بھی گزشتہ کئی مہینوں سے تعطل کا شکار ہے، جس سے صورتحال مزید ابتر ہو گئی ہے۔ حکومتی سطح پر دیکھا جائے تو ایڈز، ٹی بی اور ملیریا کے خلاف جنگ کے لیے ملنے والے بین الاقوامی فنڈز کا ایک بڑا حصہ یا تو استعمال ہی نہیں ہو پا رہا یا کرپشن اور غفلت کی نذر ہو رہا ہے۔ آڈیٹر جنرل پاکستان کی رپورٹ کے مطابق اربوں روپے غیر خرچ شدہ پڑے رہے جبکہ محکموں میں اہم عہدے خالی پڑے ہیں۔ معاشرے کا با اثر طبقہ تو مہنگے پرائیویٹ اسپتالوں سے اپنا علاج کروا لیتا ہے لیکن غریب عوام اس تباہ حال پبلک ہیلتھ سسٹم اور نیم حکیموں کے رحم و کرم پر ہیں۔ اس کے نتیجے میں ملک میں نوزائیدہ بچوں کی اموات کی شرح بلند ترین سطح پر ہے، کروڑوں افراد ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہیں، اور پولیو کا خاتمہ بھی اب تک ممکن نہیں ہو سکا۔ اگر یہ صورتحال نظام کی مکمل تباہی نہیں تو اور کیا ہے، اور اس کا خمیازہ آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔