LIVE
Loading Breaking News...

افغان سرزمین اور دہشت گردی: سلامتی کونسل میں پاکستان کا مؤقف

News Image
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان اور چین نے افغان طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف عملی اقدامات کریں۔ عالمی برداری کا ماننا ہے کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی سمیت دیگر شدت پسند تنظیموں کو محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہیں۔
عالمی برداری کی طرف سے تمام تر سفارتی کوششوں اور مراعات کے باوجود افغان طالبان نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشت گرد تنظیموں سے اپنے دیرینہ روابط ختم کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ یہ صورتحال بالخصوص افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے لیے ایک بڑا اور مسلسل سکیورٹی چیلنج بنی ہوئی ہے، جن میں پاکستان سرفہرست ہے جو 2021 میں کابل میں طالبان کی حکومت کی واپسی کے بعد سے دہشت گردانہ تشدد کا سب سے زیادہ خمیازہ بھگت رہا ہے۔ اس وقت خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے صوبے پرتشدد کارروائیوں کی لپیٹ میں ہیں، اور خونریز کارروائیوں میں ملوث عناصر کو افغانستان کے اندر محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں۔ اسی سنگین تناظر میں پاکستان نے بدھ کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں اس مسئلے کو بھرپور انداز میں اٹھایا۔ پاکستان کے مستقل مندوب نے کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کے لیے سازگار ہوتے ہوئے ماحول پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے افغان طالبان پر زور دیا کہ وہ اپنے بین الاقوامی فرائض کو پورا کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ افغان سرزمین کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔ سلامتی کونسل کے اسی اجلاس کے دوران چین کے مندوب نے بھی ان خدشات کی تائید کی اور طالبان سے دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا۔ چینی سفارت کار نے بی ایل اے اور مجید بریگیڈ پر پابندیوں کا بھی پرزور مطالبہ کیا۔ اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ رپورٹس میں بھی بارہا اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے لیے ایک سازگار ماحول موجود ہے۔ صرف ٹی ٹی پی ہی نہیں بلکہ القاعدہ، داعش خراسان (آئی ایس کے) اور ای ٹی آئی ایم جیسے خطرناک گروہ بھی افغان سرزمین پر سرگرم عمل ہیں۔ اگرچہ افغان طالبان کا داعش کے ساتھ نظریاتی اختلاف ہے، تاہم دیگر تمام پرتشدد تنظیموں کے ساتھ ان کے گہرے اور دیرینہ تعلقات ہیں۔ افغانستان کے تقریباً تمام ہمسایہ ممالک اس بات کی شکایات کر رہے ہیں کہ یہ تنظیمیں ان کی قومی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ اس کے باوجود افغان طالبان ان تمام خدشات کو محض زبانی جمع خرچ تک محدود رکھتے ہیں اور اپنے ملک سے دہشت گردی کے نفاذ کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔ اس خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے ایک مشترکہ اور مربوط علاقائی ردعمل کی اشد ضرورت ہے۔ افغان طالبان ایک تلخ حقیقت ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، تاہم عالمی برداری اور ہمسایہ ممالک کو چاہیے کہ وہ دباؤ اور ترغیبات کے امتزاج کے ذریعے کابل حکمرانوں کو اپنی پالیسیاں بدلنے پر مجبور کریں۔ معاشی بدحالی کے شکار افغانستان کے عوام کی حالت زار کا تقاضا ہے کہ طالبان دہشت گردوں کی سرپرستی چھوڑ کر تجارت اور علاقائی انضمام پر توجہ دیں۔ جب تک کابل میں دہشت گردوں کو پناہ ملتی رہے گی، افغانستان ایک بین الاقوامی تنہائی کا شکار رہے گا، اس لیے علاقائی امن کے لیے سفارتی اور سیاسی کوششیں جاری رکھنا ناگزیر ہے۔