Pakistan
پاکستان میں بچوں کے استحصال کے واقعات پر ساحل کی چونکا دینے والی رپورٹ
غیر سرکاری تنظیم ساحل کی جانب سے جاری کردہ نئی رپورٹ کے مطابق رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں ملک بھر میں بچوں کے استحصال کے 1914 واقعات رپورٹ ہوئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ متاثرہ بچوں میں 58 فیصد لڑکیاں تھیں جبکہ سب سے زیادہ کیسز پنجاب سے سامنے آئے۔
اسلام آباد: بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم 'ساحل' نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ سال کے پہلے چھ مہینوں کے دوران ملک بھر میں بچوں کے استحصال کے مجموعی طور پر 1914 کیسز رپورٹ کیے گئے۔ ان تشویشناک اعداد و شمار میں بچوں کے جنسی استحصال، اغوا، کم عمر بچوں کی شادی اور گمشدگی کے واقعات شامل ہیں، جو ملک میں بچوں کے تحفظ کے نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جنوری سے جون کے دوران بچوں کے جنسی استحصال کے 1015، اغوا کے 558، بچوں کے لاپتہ ہونے کے 101 اور بچوں کی شادیوں کے 35 کیسز سامنے آئے۔ اس کے علاوہ جنسی استحصال کے بعد پورنوگرافی کے 98 واقعات بھی ریکارڈ کیے گئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کل رپورٹ ہونے والے متاثرین میں 58 فیصد لڑکیاں شامل تھیں جبکہ عمر کے لحاظ سے 11 سے 15 سال کے بچے سب سے زیادہ اس کا نشانہ بنے۔ اس عمر کے 598 بچے متاثر ہوئے جبکہ 16 سے 18 سال کے 356، 6 سے 10 سال کے 329 اور صفر سے پانچ سال کے 95 بچے اس گھناؤنے فعل کا شکار بنے۔ رپورٹ کا ایک اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ 43 فیصد واقعات میں مجرم متاثرہ بچوں کے جان پہچان والے یا قریبی جاننے والے لوگ تھے، جبکہ 34 فیصد کیسز میں اجنبی ملوث پائے گئے۔ مزید برآں، تقریباً 45 فیصد واقعات بچوں کے اپنے گھروں کے اندر پیش آئے، جو اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ بچے اپنے ہی گھروں میں بھی مکمل محفوظ نہیں ہیں۔
جغرافیائی تقسیم کے اعتبار سے دیہی علاقوں کے مقابلے میں شہری علاقوں میں زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے جن کا تناسب بالترتیب 43 فیصد اور 57 فیصد رہا۔ آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں سب سے زیادہ یعنی 80 فیصد کیسز ریکارڈ کیے گئے، جبکہ سندھ میں یہ تناسب 15 فیصد رہا۔ باقی ماندہ پانچ فیصد کیسز ملک کے دیگر حصوں سے سامنے آئے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کل کیسز میں سے 89 فیصد پولیس میں درج کیے گئے، جبکہ چند مقامات پر پولیس کی جانب سے مقدمات کے اندراج میں ہچکچاہٹ بھی دیکھی گئی۔ تنظیم کے مطابق یہ اعداد و شمار ملک بھر کے قومی اور علاقائی اخبارات سے اکھٹے کیے گئے ہیں۔