Pakistan
میر رضا علی کیس: میڈیکل بورڈ کی تبدیلی پر تنازع اور خاندانی ردعمل
مرحوم تاجر میر رضا علی کے معاملے میں آٹھ رکنی میڈیکل بورڈ کو راتوں رات پانچ رکنی پینل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ ورثا نے نئے بورڈ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
کراچی کے معروف مرحوم تاجر میر رضا علی کے کیس میں اس وقت نیا موڑ اور شدید تنازع سامنے آیا جب راتوں رات تحقیقاتی میڈیکل بورڈ میں بڑی تبدیلیاں کر دی گئیں۔ حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق اصل آٹھ رکنی میڈیکل بورڈ کو اچانک تحلیل کر کے ایک نئے پانچ رکنی پینل سے تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس اچانک اور ڈرامائی تبدیلی نے نہ صرف قانونی حلقوں میں سوالات کو جنم دیا ہے بلکہ لواحقین کی طرف سے بھی اس پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ نئی تشکیل دی جانے والی کمیٹی میں صرف ڈاکٹر سمیعہ کو برقرار رکھا گیا ہے جو کہ پچھلے بورڈ میں بھی بطور کنوینر اپنی خدمات انجام دے رہی تھیں، جبکہ باقی اراکین کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔
میر رضا علی کے خاندان نے اس نئے میڈیکل بورڈ کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ اہل خانہ کا مؤقف ہے کہ اس طرح راتوں رات بورڈ کی تشکیل نو شفافیت پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے اور اس سے انصاف کے حصول میں رکاوٹیں کھڑی ہو سکتی ہیں۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے پس پردہ محرکات کا جاننا انتہائی ضروری ہے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔ ورثا نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ اس من مانی تبدیلی کے خلاف خاموش نہیں بیٹھیں گے اور اس معاملے کو قانونی جنگ تک لے جائیں گے۔ خاندان نے تصدیق کی ہے کہ وہ اس من مانے فیصلے کے خلاف فوری طور پر عدالت سے رجوع کریں گے۔
اس پیش رفت کے بعد قانونی اور طبی حلقوں میں بھی بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا اتنی اہم تحقیقات کے دوران اس نوعیت کی تبدیلیاں کرنا ضابطے کے عین مطابق ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی حساس کیس میں میڈیکل بورڈ کی تبدیلی سے پوری تحقیقاتی عمل کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔ اب سب کی نظریں عدالت پر مرکوز ہیں کہ آیا عدالت اس معاملے کا نوٹس لیتی ہے اور کیا نئے میڈیکل بورڈ کے فیصلوں کو معطل یا چیلنج کیا جاتا ہے۔ خاندان کا اصرار ہے کہ انہیں انصاف صرف ایک شفاف اور غیر جانبدار میڈیکل بورڈ کے ذریعے ہی مل سکتا ہے، اور وہ اپنے اس موقف پر ڈٹے رہیں گے۔