Politics
بیرسٹر گوہر کا ملک میں نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کا اعلان
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے ملک میں نئے صوبوں کے قیام کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا ہے۔ دوسری جانب سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے نئے صوبوں کی تشکیل کی اس تجویز کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملک میں نئے صوبوں کے قیام کی پرزور حمایت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں انتظامی بہتری اور عوامی مسائل کے حل کے لیے نئے صوبوں کا قیام وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس نوعیت کے کسی بھی آئینی اور انتظامی اقدام کے لیے دو تہائی اکثریت کا ہونا لازمی ہے تاکہ فیصلے کو وسیع تر سیاسی اتفاق رائے حاصل ہو۔
بیرسٹر گوہر کے اس بیان پر ملک کے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث کا آغاز ہو چکا ہے، جہاں مختلف سیاسی جماعتیں اس معاملے پر اپنے اپنے مؤقف کا اظہار کر رہی ہیں۔ پی ٹی آئی رہنما کا ماننا ہے کہ ملک میں گراس روٹ کی سطح پر انتظامی یونٹس کو چھوٹا کرنے سے عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے میں مدد ملے گی اور ترقیاتی عمل میں بھی تیزی آئے گی، بشرطیکہ یہ فیصلے تمام فریقین کی باہمی مشاورت اور قانون کے دائرے میں رہ کر کیے جائیں۔
دوسری جانب سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے نئے صوبوں کی تشکیل کی اس تجویز کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ سندھ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس طرح کی تجاویز صوبے کے استحکام اور وحدت کے خلاف ہیں اور اس سے ملک میں لسانی یا علاقائی بنیادوں پر تقسیم کو ہوا مل سکتی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے واضح کیا کہ ان کی جماعت کسی بھی ایسی کوشش کا سیاسی اور آئینی سطح پر بھرپور مقابلہ کرے گی جو وفاق یا صوبوں کے درمیان ہم آہنگی کو متاثر کرے۔
یہ تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا ہے جب ملک میں سیاسی استحکام اور آئینی اصلاحات کے حوالے سے پہلے ہی مختلف محاذوں پر کشمکش جاری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ انتہائی حساس نوعیت کا ہے اور اس کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان ایک جامع اور متفقہ قومی لائحہ عمل کی ضرورت ہے، ورنہ یہ موضوع مزید سیاسی محاذ آرائی کا سبب بن سکتا ہے۔