Education
اعلیٰ تعلیم اور معیار: ایف سی سی یو ریکٹر کا اہم بیان
فورمین کرسچن کالج یونیورسٹی کے ریکٹر کا کہنا ہے کہ ملک میں اعلیٰ تعلیم کے اداروں کو محض روایتی ڈگریاں دینے کے بجائے معیار، تنقیدی سوچ اور طلبا کی کردار سازی کو ترجیح دینی چاہیے۔ جدید دور کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعلیمی نظام میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔
لاہور: فورمین کرسچن کالج یونیورسٹی (FCCU) کے ریکٹر نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ملک میں اعلیٰ تعلیم کے اداروں کو اپنی توجہ کا مرکز محض روایتی تعلیم اور امتحانات تک محدود رکھنے کے بجائے تعلیم کے معیار، تنقیدی سوچ اور طلبا کی کردار سازی پر مرکوز کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کے اس دور میں جب دنیا بھر میں علمی اور تکنیکی تبدیلیاں تیزی سے رونما ہو رہی ہیں، ہمارے تعلیمی نظام کو بھی وقت کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی اشد ضرورت ہے۔
ریکٹر کا کہنا تھا کہ جامعات اور کالجوں کا اصل مقصد صرف نوکری کے حصول کے لیے ڈگری فراہم کرنا نہیں ہونا چاہبر، بلکہ ایسے نوجوان تیار کرنا ہے جو معاشرے کی بہتری میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔ تنقیدی سوچ (Critical Thinking) کے فروغ کے بغیر طلبا پیچیدہ مسائل کا حل تلاش کرنے اور آزادانہ طور پر فیصلے کرنے کے قابل نہیں ہو سکتے۔ تعلیمی اداروں کو ایسے ماحول کی فراہمی کو یقینی بنانا چاہیے جہاں طلبا سوال کرنے کی جرات پیدا کریں اور نئے نظریات پر کھل کر بحث کر سکیں۔
اس کے علاوہ، کردار سازی کو تعلیمی عمل کا بنیادی حصہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اخلاقی اقدار اور دیانت داری کے بغیر حاصل کی جانے والی پیشہ ورانہ مہارتیں معاشرے کے لیے مفید ثابت نہیں ہو سکتیں۔ درسگاہیں طلبا کی علمی صلاحیتوں کو نکھارنے کے ساتھ ساتھ ان میں اخلاقی پختگی لانے کی بھی ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے تمام متعلقہ اداروں اور ماہرینِ تعلیم پر زور دیا کہ وہ اعلیٰ تعلیمی نصاب میں بہتری لانے کے لیے مشترکہ کوششیں کریں تاکہ آنے والی نسلیں ملک و قوم کا نام روشن کر سکیں۔