LIVE
Loading Breaking News...

پولیس اور سکیورٹی فورسز کے شہداء کی قربانیوں کو خراج تحسین

News Image
پاکستان کے مختلف حصوں میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کے شہداء کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے تقریبات کا انعقاد کیا گیا ہے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا ہے۔
پاکستان میں امن و امان کی بحالی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فرنٹ لائن پر خدمات انجام دینے والے پولیس اور سکیورٹی فورسز کے جوانوں کی قربانیاں تاریخ کا ایک ایسا باب ہیں جنہیں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اعداد و شمار کے مطابق سنہ 1970 سے اب تک خیبر پختونخوا میں پولیس اور فرنٹ کور (ایف سی) کے دو ہزار چھ سو سے زائد اہلکار ملک و قوم کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ یہ تمام جوان ملک دشمن عناصر کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے رہے اور انہوں نے عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے اپنے لہو کا نذرانہ دیا۔ حالیہ دنوں میں یومِ شہداء پولیس کے موقع پر ملک بھر میں خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا گیا جس میں شہداء کے لواحقین اور اعلیٰ عسکری و سول حکام نے شرکت کی۔ چترال میں پولیس شہداء کی یاد میں خصوصی طور پر شہداء یادگار کا افتتاح کیا گیا تاکہ ان کی خدمات کو ہمیشہ زندہ رکھا جا سکے۔ اس موقع پر مقررین نے شہداء کے خاندانوں کے ساتھ بھرپور اظہارِ یکجہتی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی۔ دوسری جانب صوبہ بلوچستان میں بھی پولیس کی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ بلوچستان پولیس کو جدید آلات اور وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گردوں کا مزید بہتر انداز میں مقابلہ کر سکیں۔ جدید ٹیکنالوجی اور بہتر وسائل کی فراہمی سے نہ صرف پولیس کی کارکردگی میں بہتری آئے گی بلکہ فورس کے جوانوں کی سکیورٹی کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک کی اندرونی سلامتی کے لیے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب تک قوم اپنے ان ہیروز اور ان کے خاندانوں کو یاد رکھے گی، ملک سے عزم و حوصلے کی فضا قائم رہے گی۔ حکومت اور عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان شہداء کے ورثاء کی فلاح و بہبود کے لیے ہمیشہ اپنا کردار ادا کریں تاکہ فرنٹ لائن کے ان گمنام ہیروز کی قربانیوں کا صلہ ان کے پیاروں تک پہنچتا رہے۔