Technology
گوگل ارتھ اے آئی ٹول اور نقشوں پر اعتماد کا بحران
گوگل نے نقشہ سازی میں مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی ٹول کی شمولیت کے بعد جعلی تصاویر اور پالیسی کی خلاف ورزی کے خدشات کے پیش نظر اس فیچر کو عارضی طور پر معطل کر دیا۔ اس اقدام سے صدیوں پرانے نقشوں اور ان کی درستگی پر انسانوں کے روایتی اعتماد کے حوالے سے ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
گوگل ارتھ میں حال ہی میں مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی ایک نئے ٹول کی شمولیت نے دنیا بھر میں اس بنیادی سوال کو جنم دیا ہے کہ کیا اب ہم نقشوں پر آنکھیں بند کر کے بھروسہ کر سکتے ہیں۔ صدیوں سے انسانی تاریخ میں نقشوں کو حقائق اور درستگی کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے، تاہم جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں اے آئی کی مدد سے تیار کردہ مناظر نے اس اعتماد کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ گوگل نے حال ہی میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے سیٹلائٹ تصاویر تیار کرنے کا فیچر متعارف کرایا تھا، جسے اب پالیسی کی خلاف ورزیوں اور آسمان سے جعلی تصاویر (Deepfakes) کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر عارضی طور پر معطل کرنا پڑا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ اقدام ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک اہم سنگ میل ہونے کے ساتھ ساتھ سنگین خطرات کا پیش خیمہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب، بین الاقوامی جریدوں اور ٹیک تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مدار سے زمین کی نگرانی اور فروخت ہونے والے اعتماد کو اس عمل سے شدید دھکا لگا ہے۔ جب نقشہ سازی کے ادارے یا کمپنیاں تصاویر کو تبدیل کرنے یا تخلیق کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا سہارا لیتی ہیں، تو عام صارف کے لیے اصلی اور نقل میں تمیز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ گوگل کی جانب سے اس فیچر کو روکنے کا فیصلہ اس بات کا غماز ہے کہ ٹیکنالوجی کے بڑے ادارے بھی اب اے آئی کے غیر متوقع نتائج اور اخلاقی چیلنجز کو لے کر فکرمند ہیں۔ اس پورے واقعے نے ایک بار پھر اس بات کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں سچائی اور حقیقت کے تحفظ کے لیے سخت اصول اور ضابطے بنائے جائیں تاکہ صدیوں پر اعتماد روایت داؤ پر نہ لگے۔