World
تائیوان کے صدر کا رات گئے ہنگامی انخلا، فوجی مشقوں کی تفصیلات
تائیوان کے صدر لائی چنگ تی نے ممکنہ چینی حملے کے پیش نظر ایک ہنگامی انخلا کی مشق میں حصہ لیا۔ یہ مشقیں جزیرے کی دفاعی تیاریوں کو بہتر بنانے کے لیے منعقد کی گئیں۔
تائیوان کے صدر ولیم لائی نے حالیہ دنوں میں ایک انتہائی اہم اور خفیہ نوعیت کی ہنگامی انخلا کی مشق میں حصہ لیا ہے، جس نے بین الاقوامی سطح پر خاصی توجہ حاصل کی ہے۔ یہ مشقیں ایسے وقت میں منعقد کی گئیں جب تائیوان کو اپنی خودمختاری اور سلامتی کے حوالے سے چین کی جانب سے مسلسل بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔ حکام کے مطابق اس انخلا کا بنیادی مقصد ملکی قیادت کو ممکنہ ہنگامی حالات یا کسی بھی متوقع چینی حملے کی صورت میں محفوظ مقام پر منتقل کرنے کی تیاریوں کو جانچنا تھا۔
ذرائع کے مطابق یہ مشقیں رات کے وقت کیں۔ گئیں۔ تاکہ حقیقی جنگی حالات کی عکاسی کی جا سکے اور سکیورٹی اداروں کی مستعدی کا اندازہ لگایا جا سکے۔ تائیوان کی فوج اور سکیورٹی ایجنسیوں نے صدر کو محفوظ طریقے سے نامعلوم مقام تک پہنچانے کے لیے انتہائی پیچیدہ پروٹوکولز پر عمل کیا۔ اس دوران صدر ولیم لائی نے خود بھی ان تمام کارروائیوں کا قریب سے جائزہ لیا اور سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔
بیجنگ کی جانب سے تائیوان پر مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے اور اسے چین کا حصہ قرار دیا جاتا ہے، جبکہ تائیوان خود کو ایک آزاد اور خودمختار جمہوری ریاست مانتا ہے۔ اسی کشیدگی کے تناظر میں تائپے حکومت اپنی دفاعی صلاحیتوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے متحرک ہے۔ ان ہنگامی مشقوں کا مقصد نہ صرف کسی بھی اچانک حملے کی صورت میں جانی نقصان کو کم کرنا ہے بلکہ دشمن کو یہ واضح پیغام دینا بھی ہے کہ تائیوان کا دفاعی نظام ہر قسم کے حالات سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔