World
میکسیکو میں ایوکاڈو کی پیداوار کے علاقے میں فوج کی تعیناتی
امریکہ کی جانب سے ایوکاڈو کی برآمدی انسپکشن معطل کیے جانے کے بعد میکسیکو نے اپنے اہم پیداواری علاقے میں پندرہ سو سے زائد فوجی تعینات کر دیے ہیں۔ یہ قدم سکیورٹی خدشات اور تجارتی ترجیحات کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔
میکسیکو کی حکومت نے ملک کے اہم ترین ایوکاڈو پیدا کرنے والے علاقے میں سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے پندرہ سو سے زائد فوجی اہلکاروں کو تعینات کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب امریکہ نے حفاظتی اور انتظامی وجوہات کی بنا پر اس پیداواری زون سے آنے والی مصنوعات کی درآمدی انسپکشنز کو عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا۔ میکسیکو دنیا بھر میں ایوکاڈو کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے اور اس کی بڑی مقدار امریکہ کو برآمد کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق، فوجیوں کی اس نئی کھیپ کی تعیناتی کا بنیادی مقصد زرعی پیداوار سے وابستہ کارکنوں کی حفاظت کرنا اور سپلائی چین کو کسی بھی ممکنہ خلل سے محفوظ رکھنا ہے۔ حالیہ کچھ عرصے کے دوران اس خطے میں امن و امان کے مسائل اور مجرمانہ سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہو رہی تھیں، جس کی وجہ سے تجارتی سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔ امریکی حکام نے بھی فیلڈ انسپکٹرز کی سکیورٹی کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا تھا، جنہیں دور کرنے کے لیے یہ اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔
میکسیکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ امریکی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں تاکہ انسپکشن کے عمل کو جلد از جلد بحال کیا جا سکے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت بغیر کسی تعطل کے جاری رہے۔ کسانوں اور تاجروں نے فوج کی تعیناتی کا خیرمقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس سے علاقے میں امن بحال ہوگا اور برآمدات کا سلسلہ دوبارہ معمول پر آ جائے گا۔ میکسیکو کی معیشت میں ایوکاڈو کی صنعت ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور لاکھوں افراد اس سے وابستہ ہیں۔