LIVE
Loading Breaking News...

میر رضا علی کیس: قبر کشائی کے لیے میڈیکو لیگل بورڈ کی تشکیل نو

News Image
کراچی میں آئی بی اے کے گریجویٹ میر رضا علی کی پراسرار موت کے معاملے میں قبر کشائی کے لیے تشکیل دیا گیا میڈیکو لیگل بورڈ اچانک تبدیل کر دیا گیا ہے۔ متوفی کے اہل خانہ اور ان کے وکیل نے اس تبدیلی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔
کراچی میں انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کے فارغ التحصیل نوجوان میر رضا علی کی پراسرار موت کے معاملے میں قبر کشائی کے لیے بنائے گئے میڈیکو لیگل بورڈ میں اچانک تبدیلیاں کر دی گئی ہیں۔ گزشتہ ماہ گلستان جوہر کے علاقے سے رضا علی کی لاش گولی کے نشان کے ساتھ ملی تھی جہاں ایک طرف اہل خانہ اسے اغوا اور قتل قرار دے رہے ہیں، وہیں تفتیشی حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا یہ خودکشی کا واقعہ تو نہیں۔ عدالت کی جانب سے والد کی درخواست پر قبر کشائی کی اجازت دی گئی تھی جس کے بعد محکمہ صحت سندھ نے ابتدائی طور پر آٹھ رکنی بورڈ تشکیل دیا تھا۔ تاہم سندھ ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ کی جانب سے ایک نیا حکم نامہ جاری کیا گیا ہے جس کے تحت بورڈ کے ارکان کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔ نئے نوٹیفیکیشن کے مطابق پولیس سرجن ڈاکٹر سمیع سید بدستور کنوینر رہیں گی جبکہ دیگر ارکان میں ڈاکٹر زکی الدین، ڈاکٹر قاضی اکبر، ڈاکٹر عابد حسین چانگ اور ڈاکٹر وسیم خان کو شامل کیا گیا ہے۔ اس غیر متوقع تبدیلی پر متوفی کے خاندان کے وکیل جبران ناصر نے سوشل میڈیا پر اپنے ردعمل میں الزام عائد کیا ہے کہ سندھ حکومت نے بغیر کسی معقول وجہ کے بورڈ کے ارکان کو تبدیل کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خاندان اس نئے بورڈ کو تسلیم نہیں کرتا اور نہ ہی اسے مزید تحقیقات کے لیے لاش کی قبر کشائی کرنے دی جائے گی، اور اس فیصلے کو مناسب فورم پر چیلنج کیا جائے گا۔ واقعے کی ابتدائی تفصیلات کے مطابق ۲۵ سالہ رضا علی، جو کہ ایک ریستوران کے مالک بھی تھے، گزشتہ ماہ ۲۸ جولائی کو لاپتہ ہوئے تھے اور اگلے روز ان کی لاش ملی تھی۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ متوفی مالی مشکلات کا شکار تھے، تاہم پوسٹ مارٹم رپورٹ اور ابتدائی طبی شواہد میں تضادات سامنے آنے پر تنازع کھڑا ہو گیا تھا۔ پولیس سرجن کے بیانات کے بعد اس کیس نے نیا رخ اختیار کیا، جس کے بعد عدالت کے حکم پر قبر کشائی کا فیصلہ کیا گیا تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔ اب نئے بورڈ کی تشکیل اور اس پر خاندانی اعتراضات کے بعد اس حساس کیس کی تحقیقات مزید پیچیدہ ہوتی دکھائی دے رہی ہیں اور آئندہ روز عدالت اور متعلقہ حکام کے درمیان اس معاملے پر قانونی رسہ کشی متوقع ہے۔