Politics
پاولین ہنسن نسلی تعصب کیس ہار گئیں: آسٹریلوی عدالت کا فیصلہ
آسٹریلوی سیاستدان پاولین ہنسن نے مسلم سینیٹر مہرین فاروقی کو پاکستان واپس جانے کا کہنے کے خلاف دائر اپیل میں شکست کھا لی ہے۔ وفاقی عدالت نے نسلی تعصب سے متعلق تاریخی فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔
آسٹریلیا کی ایک وفاقی عدالت نے دائیں بازو کی سیاستدان پاولین ہنسن کی جانب سے دائر کردہ اس اپیل کو مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے مسلم سینیٹر مہرین فاروقی کے خلاف دیے گئے توہین آمیز بیان پر آنے والے نسلی تعصب کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔ عدالت کے اس تازہ فیصلے کے بعد پاولین ہنسن کی قانونی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اور ملک بھر میں اس فیصلے کو نسلی ہم آہنگی اور قانون کی بالادستی کی ایک بڑی فتح کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ پورا تنازع اس وقت شروع ہوا جب پاولین ہنسن نے سوشل میڈیا پر ایک متنازع اور نسل پرستانہ ٹویٹ کے ذریعے گرینز پارٹی کی سینیٹر مہرین فاروقی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ آسٹریلیا چھوڑ کر واپس پاکستان چلی جائیں۔ اس بیان کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں شدید غم و غصہ پھیل گیا تھا، اور اسے مسلمانوں اور تارکین وطن کے خلاف کھلی نفرت انگیزی قرار دیا گیا تھا۔ سینیٹر مہرین فاروقی نے اس توہین آمیز رویے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا اور انسانی حقوق کے کمیشن اور عدالت سے رجوع کیا۔ ابتدائی سماعتوں کے دوران عدالت نے پاولین ہنسن کے اس عمل کو نسلی امتیاز اور توہین آمیز قرار دیا تھا جس کے خلاف انہوں نے وفاقی عدالت میں اپیل دائر کی تھی۔ اب عدالتِ عالیہ نے بھی ان کی اپیل خارج کرتے ہوئے سابقہ فیصلے کو درست قرار دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عدالت کا یہ فیصلہ آسٹریلیا کی سیاست میں نسلی تعصب اور نفرت انگیز بیانات کے خلاف ایک مضبوط نظیر قائم کرے گا۔ اس فیصلے کے بعد سول سوسائٹی اور مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی سینیٹر مہرین فاروقی کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ عوامی عہدوں پر فائز افراد کو معاشرے میں منافرت پھیلانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔